والد کا بیانِ حلفی ممکنہ طور پر برطانیہ کی نوٹری پبلک سے لیک ہوا، احمد حسن رانا

ان کے والد کی ساکھ کو اس وقت نقصان پہنچتا کہ جب وہ اپنے بیانِ حلفی سے مکر جاتے ، گفتگو

بدھ 1 دسمبر 2021 17:55

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 01 دسمبر2021ء) گلگت بلتستان کے سابق جج رانا شمیم کے بیٹے احمد حسن رانا نے کہا ہے کہ والد نے بیانِ حلفی کہیں جمع نہیں کروایا تھا، اگر وہ لیک ہوا ہے تو ممکنہ طور پر برطانیہ کی نوٹری پبلک سے لیک ہوا ہے۔ایک ٹی وی پروگرام میں ان سے ان کے والد کے عدالت میں دئیے گئے بیان کے بارے میں سوال کیا گیا کہ ان کا بیانِ حلفی سیلڈ تھا اور انہوں نے کوئی بیانِ حلفی میڈیا کو نہیں دیا تو یہ میڈیا کے پاس کس طرح پہنچا جس پر رانا شمیم نے کہا کہ وہ اس کیس کے وکلا کے پینل میں ضرور شامل ہیں تاہم کیس کے مرکزی وکیل سینئر قانون دان لطیف آفریدی ہیں، مجھے عدالت میں والد نے انہیں لے کر آنے کا حکم دیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت لطیف آفریدی کسی کیس میں مصروف تھے جس کی وجہ سے ہمیں تاخیر ہوگئی اور اس دوران اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت ختم ہوگئی۔

(جاری ہے)

انہوں نے سماعت کے دوران ہونے والی کارروائی سے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا۔احمد حسن رانا نے رانا شمیم کے بیانِ حلفی کے بارے میں کہا کہ والد نے یہ بیانِ حلفی کہیں جمع نہیں کروایا، یہ اگر لیک ہوا ہے تو ممکنہ طور پر برطانیہ کی نوٹری پبلک سے لیک ہوا ہے۔

مزید وضاحت کرتے ہوئے احمد حسن رانا نے کہا کہ بیانِ حلفی کی نقل ضرور لیک ہوئی ہے تاہم اصل نہیں اور کاپی دیکھنے میں زیادہ واضح نہیں، اگر اس کا پرنٹ آؤٹ نکالا جائے تو وہ واٹس ایپ پر بھیجی گئی تصویر معلوم ہوتی ہے۔سابق چیف جسٹس کے بارے میں سنجیدہ الزامات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں احمد حسن نے کہا کہ ان کے والد کی ساکھ کو اس وقت نقصان پہنچتا کہ جب وہ اپنے بیانِ حلفی سے مکر جاتے تاہم وہ اپنے بیان سے نہیں مکرے اور اس پر قائم ہیں اور کہا کہ بیانِ حلفی دیا ہے لیکن وہ برطانیہ میں رکھا ہے۔

اٹارنی جنرل کے عدالت میں دیے گئے بیان پر انہوں نے کہا کہ وہ ریاست کے وکیل ہیں جس کی چیخیں نکلی ہیں کیوں کہ موجودہ حکومت کی تشکیل کے تانے بانے ریاست سے جاملتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چونکہ ریاست کی چیخیں زیادہ نکل رہی ہیں اس لیے ہوسکتا ہے کہ انہوں نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی ہو کہ کیس کا سختی سے مقابلہ کرنا ہے تو وہ اپنی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں مجھے ان سے کوئی گِلہ نہیں ہے۔

والد کا اصل بیانِ حلفی ملک واپس لانے سے متعلق سوال کے جواب میں احمد حسن رانا نے کہا کہ میرے آنے جانے کی کوئی ضرورت نہیں، والد صاحب خود جاکر یا کسی سے کہہ کر بھی اسے منگوا سکتے ہیں۔مذکورہ معاملہ مسلم لیگ (ن) کے حق میں ہونے کے باوجود اسے عدالت نہ لے کر جانے کے بارے میں انہوںنے کہاکہ اس میں مسلم لیگ (ن) کا مؤقف ثابت ہوگیا ہے جنہوں نے کہا تھا کہ ہمیں انصاف چاہیے اور اگر وہ اس پر سیاست نہیں کر رہے تو ہمیں تو ان کا شکر گزار ہونا چاہیے۔

انہوںنے کہاکہ مسلم لیگ (ن) اگر اس پر سیاست کرتی تو اسے آپ لوگ دوسرا رنگ دے دیتے ہیں، انہوں نے اپنے آپ کو اس معاملے سے صاف رکھتے ہوئے کہا کہ اس کا فیصلہ عدالت کرے گی۔ان سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ بیانِ حلفی آپ کی بہن کے بیٹے کے پاس بھی تھا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی اور بتایا کہ میری بڑی بہن کے بیٹے جو بیرسٹر بن رہے ہیں یہ انہوں نے دیکھا ہوا ہے تاہم انہوں نے اس بات کا امکان رد کردیا کہ یہ ان کے پاس سے لیک ہوا ہو اور کہا کہ ان کی اتنی مجال نہیں بلکہ میرے اندر بھی اتنی ہمت نہیں ہے کہ والد صاحب سے سوال کر سکوں۔

گلگت شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments