موجودہ حکومت عوام کے خون کا آخری قطرہ تک نچھوڑنا چاہتی ہے‘راجہ جاوید اخلاص

ریخی مہنگائی کی چکی میں پستے عوام پر پٹرولیم مصنوعات قیمتوں میں مزید اضافہ کرکے ظالم پی ٹی آئی حکومت نے مہنگائی کا نیا بم چلایا ہے حکومت پاکستان کے عوام کے خلاف معاشی دہشت گردی پر اتر آئی ہے‘ بے حس اور ظالم حکمران عوام کو بغاوت پرمجبور کر رہے ہیں

جمعہ 1 اکتوبر 2021 12:55

گوجر خان(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 01 اکتوبر2021ء) مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما و سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری راجہ جاوید اخلاص نے کہا ہے کہ تاریخی مہنگائی کی چکی میں پستے عوام پر پٹرولیم مصنوعات قیمتوں میں مزید اضافہ کرکے ظالم پی ٹی آئی حکومت نے مہنگائی کا نیا بم چلایا ہے۔ موجودہ حکومت عوام کے خون کا آخری قطرہ تک نچھوڑنا چاہتی ہے اب عوام میں جینے کی سکت نہیں رہی اور وہ دن دور نہیں کہ ان ظالم عوام دشمن حکمرانوں کو عوام ایسی عبرتناک سزا دیں گے کہ ان کی آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں گے حکومت کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے ڈالر کی قیمت میں بھی دن بدن اضافہ کورہا ہے اس کیفیت کے لئے معاشی تباہی اور قیامت صغری کے الفاظ مناسب ترین ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے حکومت کی جانب سے حالیہ پٹرول کی قیمتوں میں ایک ماہ کے اندر دو بار پانچ،چار روپے اضافہ پر این این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان عوام کے خلاف معاشی دہشت گردی پر اتر آئی ہے۔

(جاری ہے)

بے حس اور ظالم حکمران عوام کو بغاوت پرمجبور کر رہے ہیں۔ بدترین حالات حکمرانوں کی ناکامی کی چیخ چیخ کر دہائی دے رہے ہیں جو اپنی ناکامیوں پر استعفی دینے کے بجائے ملک اور قوم کواندھے کنوئیں میں لیجارہے ہیں۔

اس ظلم کے خلاف احتجاج کریں گے۔ اس طرح ملک چل سکتا ہے اور نہ ہی غریب کا گھر۔راجہ جاوید اخلاص نے مزید کہاکہ گزشتہ روز ہونے والے مسلم لیگ ن کے ورکرز کنونشن میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے صاف الفاظ میں کہا کہ مسلم لیگ ن فئیر اینڈ فری الیکشن کے حق میں ہے لیکن اگر کسی نے غیر قانونی طور سے عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی ہے تو پھر بھرپور احتجاج کیا جائے گاراجہ جاوید اخلاص نے کہاکہ موجودہ حکومت نہ عدالتوں اور نہ اداروں کا احترام کرتی ہے پی ٹی آئی کی حکومت نے حالات اس قدر گھمبیر کردئیے ہیں شاہد ہی اپنی مدت پوری کر سکیں محسوس ہورہا ہے جنرل الیکشن وقت سے پہلے ہو جائی-

گوجر خان شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments