15 پر مدد کے لیے کال کرنے والی لڑکی جنسی زیادتی کا نشانہ بن گئی

اوباش نوجوانوں کے خلاف 15 پر کال کر کے مدد مانگی، شیطان صفت اے ایس آئی نے تفتیش کے بہانے 23 سالہ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان پیر ستمبر 11:04

15 پر مدد کے لیے کال کرنے والی لڑکی جنسی زیادتی کا نشانہ بن گئی
گجرانوالہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔21 ستمبر2020ء) پولیس ہیلپ لائن 15 پر کال کرنا لڑکی کو مہنگا پڑ گیا، عوام کے محافظ بھی عزتیں لوٹنے لگے،پولیس اہلکار نے تفتیش کے بہانے 23 سالہ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنا دیا ۔تفصیلات کے مطابق 15 پر کال کرنے والی لڑکی زیادتی کا نشانہ بن گئی۔گجرانوالہ میں 15 پر داد رسی کے لیے کال کرنے والی لڑکی کو تھانے بلا کر انکوائری کے بہانے شیطان صفت اے ایس آئی نے نہ صرف مبینہ زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا بلکہ لڑکی کا موبائل نمبر بھی دیگر اہلکاروں میں بانٹ دیا جو لڑکی کو بار بار تنگ کرتے رہے۔

بتایا گیا ہے کہ متاثرہ لڑکی نے انکوائری آفیسر کے خلاف سی پی او گجرانوالہ کو درخواست جمع کرا دی ہے جس پر سی پی او رائے بابر نے ایس پی صدر اور ایس پی سول لائن کو انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔

(جاری ہے)

درخواست میں اے ایس آئی یاسین کی جانب سے ہراساں کرنے کا الزام بھی سامنے آیا ہے۔دائر کی گئی درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ تھانے اروپ علاقے میں اوباش افراد نے جھگڑے کے دوران کپڑے پھاڑ دئیے جس پر میں نے 15 پر مدد کے لیے کال کی تھی اور پھر مجھے تفتیش کے بہانے بلا کر اے ایس آئی مبشر نے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔

جب کہ پولیس کے متعدد افسران پیٹی بھائیوں کو بچانے کے لیے سرگرم ہو گئے ہیں۔،متاثرہ لڑکی کے اہلخانہ کو راضی نامہ کے لیے مجبور کیا جھا رہا ہے۔مدعی رفیق کی درخواست پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔واضح رہے کہ سانحہ گجر پورہ کے بعد سے ملک میں خواتین اور بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کے کیسز رپورٹ ہونے کی شرح میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اس تمام صورتحال میں عوام اور عوامی نمائندوں کی جانب سے جنسی زیادتی کے ملزمان کو سخت اور عبرت نام سزائیں دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے وزیراعظم اور چند وفاقی وزراء نے اعلان کیا ہے کہ جنسی زیادتی کے ملزمان کو نامرد کرنے اور سرعام پھانسی کی سزا دینے کا بل جلد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔

گجرانوالہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments