دوران حراست تشدد کرنے پر سرکاری ملازم کو 10سال قید اور بھاری جرمانہ ہوگا

جو بھی شخص دوران حراست موت یا جنسی تشدد کے جرم کا ارتکاب یا اس کی سازش کرے گا تو اسے عمر قید اور 30لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے، ایوان بالا سینیٹ میں دوران حراست تشدد اور موت کے انسداد اور سزا کا بل 2021 منظور ہو گیا، ذرائع

Danish Ahmad Ansari دانش احمد انصاری پیر 12 جولائی 2021 19:19

دوران حراست تشدد کرنے پر سرکاری ملازم کو 10سال قید اور بھاری جرمانہ ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ، اخبار تازہ ترین، 12جولائی 2021) اب دوران حراست تشدد کرنے پر سرکاری ملازم کو 10سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا، سینیٹ میں دوران حراست تشدد اور موت کے انسداد اور سزا کا بل 2021 منظورہو گیا۔ ملک بھر میں پولیس اہلکاروں کی غفلت اور تشدد کی وجہ سے اکثر اوقات دوران حراست ملزمان کی ہلاکت واقع ہو جاتی ہے، جس کے انسداد کے لیے حکومت کی جانب سے اہم اقدام اُٹھایا گیا ہے۔

اگر کوئی سرکاری ملازم جس کا فرض تشدد کو روکنا ہے، اگر وہ جان بوجھ کر یا غفلت برتتے ہوئے اس کی روک تھام میں ناکام رہتا ہے تو اسے 5سال قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔بل پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے پیش کیا اور وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے اس کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تشدد میں ملوث کسی بھی سرکاری ملازم کو 10 سال تک قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے مزید کہا گیا کہ جو بھی شخص دوران حراست موت یا جنسی تشدد کے جرم کا ارتکاب یا اس کی سازش کرے گا تو اسے عمر قید اور 30لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔مزید براں اگر کوئی سرکاری ملازم جس کا دوران حراست اموات یا جنسی تشدد کی روک تھام ہے، اگر وہ جان بوجھ کر یا غفلت کے نتیجے میں ایسا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو انہیں کم از کم 7سال قید اور 10لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بل کے مطابق جرمانہ مقتول یا ان کے قانونی ورثا کو ادا کیا جائے گا، اگر جرمانہ ادا نہیں کیا گیا تو جرم کا ارتکاب کرنے والے سرکاری ملازم کو بالترتیب تین اور پانچ سال تک اضافی قید کا سامنا کرنا پڑے گا۔حراست کے بارے میں بل میں کہا گیا ہے کہ کسی کو بھی کسی بھی جرم میں "کسی ملزم کے ٹھکانے یا ثبوت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے کسی کو تحویل میں نہیں لیا جاسکتا جبکہ خواتین کو صرف ایک خاتون اہلکار کے ذریعے تحویل میں لیا جاسکتا ہے۔

دوران حراست تشدد اور موت(روک تھام اور سزا) کے بل 2021 میں کہا گیا کہ اس ایکٹ کے تحت دی گئی سزا ناقابل معافی اور ناقابل ضمانت تصور کی جائے گی۔اس بل میں دوران حراست تشدد کی صورت میں شکایت کے اندراج کا طریقہ کار بھی بتایا گیا ہے، عدالت موصولہ شکایت کے نتیجے میں درخواست گزار کا بیان ریکارڈ کرے گی اور ہدایت دے گی کہ طبی اور نفسیاتی معائنہ کیا جائے اور اس معائنے کے نتائج 24 گھنٹوں میں عدالت میں پیش کرنا ہوں گے۔

اگر شواہد مل گئے کہ ہوسکتا ہے کہ تشدد ہوا ہے تو متعلقہ عدالت اس معاملے کو مزید کارروائی کے لیے سیشن کورٹ کے پاس بھیجے گی، سیشن کورٹ تحقیقات کی ہدایت کرتے ہوئے 15 دن میں رپورٹ طلب کرے گی، بل میں کہا گیا کہ سیشن کورٹ روزانہ کی بنیاد پر شکایت کی سماعت کرے گی اور 60 دن میں فیصلہ سنائے گی۔

گجرانوالہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments