دھان کی منظورشدہ اقسام کا بیج،زرعی مشینری،اجزائے کبیرہ و صغیرہ اور جڑی بوٹی مار زہروں پرکاشتکاروں کو سبسڈی دی جارہی ہے،صوبائی وزیر سید حسین جہانیاں گردیزی

جمعہ جون 22:31

کامونکے (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 04 جون2021ء) وزیر اعظم کے زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت تین سو ارب روپے کی لاگت سے گندم،کماد، تیل دار اجناس کی فی ایکڑپیداوار میں اضافہ اور پانی کے دستیاب وسائل میں بہتری کے مختلف منصوبہ جات پر عملدرآمد جاری ہے۔ان منصوبہ جات میں دھان کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیلئے 6 ارب32کروڑ کی خطیر رقم سے دھان کی منظورشدہ اقسام کا بیج،زرعی مشینری،اجزائے کبیرہ و صغیرہ اور جڑی بوٹی مار زہروں پرکاشتکاروں کو سبسڈی دی جا رہی ہے۔

ان خیالات کا اظہاروزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے واہنڈو روڈ پر قائم نجی رائس ملز میں قومی منصوبہ دھان کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار کے تحت منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر وزیر زراعت پنجاب نے کہا کہ ہمارا ملک دنیامیں چاول برآمد کرنے والے ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے۔

(جاری ہے)

یہ فصل ہماری غذائی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ زرمبادلہ کمانے میں بھی اہم ذریعہ ہے۔

پاکستانی باسمتی چاول اپنی خوشبو اور معیارکی وجہ سے پوری دنیا میں پسند کیا جاتا ہے۔ مالی سال 2019-20 کے دوران 2.19 ملین ٹن چاول برآمد کئے گئے جس سی2.94 ارب ڈالر زرمبادلہ حاصل ہوا۔ دھان کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کا یہ قومی منصوبہ پنجاب کے 15 اضلاع میں جاری ہے جس سے دھان کی موٹی اور باسمتی اقسام کی اوسط پیداوار میں 20اور10من فی ایکڑ کا اضافہ ہو گا۔

گذشتہ مالی سال اس منصوبہ کے تحت دھان کی کاشت کیلئے زرعی آلات پر 3کروڑ 20 لاکھ روپے کی سبسڈی فراہم کی گئی جبکہ آئندہ مالی سال کاشتکاروں کو 26کروڑ روپے کی سبسڈی فراہم کی جائے گی۔اس پروگرام سے صوبہ میں دھان کی مشینی کاشت کو فروغ حاصل ہوگا اور کاشتکاروں کی پیداواری لاگت میں کمی اور منافع میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری حکومت وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے ویڑن کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت میں زرعی شعبہ کو فعال اور ترقی یافتہ بنانے کے لیے کوشاں ہے اور اس مقصد کے لیے مالی مشکلات کے باوجود وفاقی اور صوبائی حکومت کی طرف سے ترجیحاًوسائل فراہم کیے جارہے ہیں۔

تقریب میں ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع ڈاکٹر انجم علی،چیئرمین پی اے آر سی ڈاکٹر عظیم خان،سابق ایم این اے رانا عمر نذیرخان، سابق صوبائی وزیر سہیل ظفر چیمہ،ڈائریکٹر محکمہ زراعت چودھری مشتاق احمد، ڈپٹی ڈائریکٹرز محکمہ زراعت نوید عصمت کا ہلوں اور ڈی ڈی زراعت ڈاکٹر جاوید اختر پڈھیاراسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت توسیع کامونکی شاہد نذیر اعوان اور کاشتکاروں کی کثیر تعداد موجود تھی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری زراعت پنجاب اسد رحمان گیلانی نے کہا کہ حکومت کی کسان دوست پالیسیوں اور کاشتکاروں کی محنت کے باعث2020-21 میں صوبہ پنجاب میں گندم اور دھان کی 2 کروڑ9 لاکھ میٹرک ٹن اور53 لاکھ میٹرک ٹن ریکارڈ پیداوار حاصل ہوئی ہے۔۔کاشتکاروں کی پیداواری لاگت میں کمی اور زرعی مداخل کی بروقت خرید کیلئے بلاسود قرضوں کا اجرائ ، کھادوں پر سبسڈی، کراپ انشورنس سکیم اور اہم فصلوں کی فی ایکڑپیداوار میں اضافے کے منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے۔

اب کاشتکاروں کی سہولت اور اٴْن کے تحفظات کے ازالہ کے لئے حکومت پنجاب نے تاریخ میں پہلی مرتبہ '' کسان کارڈ'' کے اجرائ کا انقلابی پروگرام شروع کیا ہے جس کے ذریعے تمام سبسڈیز کو کیش ٹرانسفر کی صورت میں براہ راست کاشتکاروں کے اکاونٹ میں منتقل کیا جائے گا۔گذشتہ تین سالوں میں زرعی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ ہوا ہے اورکورونا وبائ کے باوجود ملک میں زرعی شعبہ ہی وہ واحد شعبہ ہے جس کی مثالی کارکردگی سے گروتھ ریٹ میں اضافہ ہواہے۔

گجرانوالہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments