تحصیل ہارون آباد کے رہائشیوں کو قصابوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا

جمعہ ستمبر 15:07

ہارون آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 ستمبر2019ء) لاکھوں افراد کی آبادی پر مشتمل شہرجیسے وزیروں کے شہر سے بھی جاتا ہے ہمیشہ سے ہی مسائل گاہ بنا رہتا ہے کھبی سڑکیں ،کھبی سیوریج ،کھبی اسپتالوں میں ادویات سمیت بنیادی سہولیات کی کمی،کبھی گلی محلو کے سولنگ اب اس وزیروں کے شہر میں میں مذبحہ خانہ کی سہولت بھی موجود نہیں ہے ۔

تحصیل ہارون آباد کی انتظامیہ نے شہریوں کو معیاری گوشت کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے قبرستان عیسائیاں والے کے قریب بہت سال پہلے مذبحہ خانہ تعمیر کیا تھاقبرستان کی جگہ کم ہونے سے مذبحہ خانہ اب اس میں شامل ہوچکا ہے اس وقت سے لے کر آج تک کسی بھی منتخب نمائندے نے توجہ ہی نہیں دی ،جتنے بھی سابقہ ممبران گزرے یا موجودہ ارکان اسمبلی اس اہم بنیادی انسانی صحت کے مسئلے پردھیان مرکوز ہی نہیں کیا۔

(جاری ہے)

یہاں کے رہائشی قصابوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دئیے گئے ہیں ۔ جیسا بھی گوشت مہیا کریں عوام کو کھانا پڑے گا ، یاد رہے کہ سرکاری مذبحہ خانوں کا کام جانوروں کی فزیکل فٹنس اور گوشت کے معیار کو چیک کرنا ہے یہاں موجودویٹرنری ڈاکٹروں کے فرائض میں شامل ہوتا ہے کہ کوئی جانور گل گھوٹو ، منہ کھر یا کسی دیگر بیماری میں مبتلا نہ ہو ، جانور کی کھال پر سرکاری مہر بھی لگائی جاتی ہے تا کہ صارفین بلا خوف و خطر اسے خرید سکیں ، سلاٹر ہائو س نہ ہو نے کی وجہ سے لوگ بے یقینی کے عالم مضر صحت گوشت کھانے پر مجبور ہے ۔

۔تفصیلات کے مطا بق عوامی شروے میں شہر کے سیاسی و سماجی مذہبی حلقوں ، سول سوسائٹی ، دکلاء نمائندوں سمیت دیگر نے جناح پر یس کلب رجسٹرڈ کے صحافیوں کو بتایا کہ قصاب حضرات گلی محلوںاپنی دوکانوں کے سامنے بیٹھ کر جانور ذبح کرتے ہیں۔ لوگ پہنچان ہی نہیں کر پا رہے کہ ہم جو گوشت کھا رہے ہیں ، وہ صحت کے لئے نقصان دہ تو نہیں ۔ انہوں نے موجودہ ارکان اسمبلی اور ڈی سی او بھاولنگر اور اسسٹنٹ کمشنر عبدالجبار گجرسے اپیل کی ہے کہ ہارون آباد شہر کے آس پاس سرکار ی زمین وافر تعداد میں پڑی ہوئی ہے ، مذبحہ خانہ کی تعمیر و چار دیواری دیگر سہولیات مہیا کی جائے ، تا کہ شہریوں کو معیاری گوشت کی فراہمی ممکن ہو سکے ۔

ہارون آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments