اٹک پولیس کی طرف سے ضلع میں خواتین کو ہراسانی اور تشدد سے محفوظ رکھنے کیلئے اینٹی ہراسمنٹ اینڈ وائلنس سیل کا قیام

خواتین پر تشدد غیر انسانی فعل ہے جسکی کوئی مہذب معاشرہ اجازت نہیں دے سکتا،ضلع اٹک کو خواتین کیلئے ہراسمنٹ فری زون بنائیں گے،ہراسانی اور تشدد میں ملوث ملزمان کو نشان عبرت بنائیں گے،ڈی پی او اٹک رانا شعیب محمود

جمعہ 3 ستمبر 2021 23:38

حسن ابدال(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 ستمبر2021ء) اٹک پولیس کی طرف سے ضلع میں خواتین کو ہراسانی اور تشدد سے محفوظ رکھنے کے لیے اینٹی ہراسمنٹ اینڈ وائلنس سیل کا قیام۔ تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب اور انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب انعام غنی کے ویژن کے مطابق ضلع اٹک میں اینٹی ہراسمنٹ اینڈ وائلنس سیل کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جسکا مقصد خواتین کو ہراسانی اور تشدد سے محفوظ رکھنا ہے ،اس سیل کا مقصد پکار 15 اور وویمن سیفٹی ایپ کے ذریعے خواتین پر تشدد اور ہراسگی کی کالز موصول ہونے پر فوری رسپانس، قابل دست اندازی پولیس جرم پر فوری ایف آئی آر کا اندراج ،خواتین پر تشدد اور ہراسگی کے مقدمات پر بہترین تفتیش کو یقینی بنانا،ہراسگی کا شکار خواتین کو تمام تھانہ جات میں تعینات ویکٹم سپوٹ آفیسرز کی طرف سے مکمل مدد اور راہنمائی فراہم کرنا،خواتین پر تشدد اور ہراسگی میں عدالتوں سے سزا یافتہ مجرمان کی کڑی نگرانی اورتمام خواتین میں تحفظ کا احساس پیدا کرنا ہے۔

(جاری ہے)

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اٹک رانا شعیب محمود اور ایس پی انوسٹی گیشن اٹک ڈاکٹر عمارہ شیرازی اس سیل کے کام کی نگرانی کر رہے ہیں،ضلع بھر میں تمام وہ مقامات جہاں خواتین سے زیادتی کے واقعات رونما ہوتے ہیں پنجاب پولیس کی کرائم میپنگ سسٹم کے ذریعہ نشاندہی کی گئی ہے جہاں پولیس افسران سول پارچات اور یونیفارم میں تعینات رہیں گے اور کسی ہراسگی کے واقعہ کی صورت میں ملزمان کو فوری طور پر دبوچ لیں گے۔

ماڈل پولیس سٹیشن سٹی اٹک میں قائم اینٹی ہراسمنٹ اینڈ وائلنس سیل میں خواتین افسران سمیت ضلع کے بہترین تفتیشی افسرتعینات کیے گئے ہیں اور 15کے علاوہ9316501,9316499,9316498, 057- پرخواتین کسی بھی ہراسگی یا تشدد کی شکایت کی صورت میں 24گھنٹے کال کر سکتی ہیں۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اٹک رانا شعیب محمود نے ایس ڈی پی اوزا ور ایس ایچ اوز کو ہدایات کی ہیں کہ وہ اس رسپانس کی خود نگرانی کریں گے اوراس بات کو یقینی بنائیں گے کہ قابل دست اندازی جرم کی شکایت پر کسی تاخیر کے بغیر فوری طور پر ایف آئی آر کا اندراج ہو۔

ایسے تمام مقدمات کی تفتیش کی نگرانی ایس پی انوسٹی گیشن اٹک ڈاکٹر عمارہ شیرازی کریں گی اور پراسیکیوشن کے ساتھ ملکر ملزمان کو سزائیں دلوائی جائیں گی۔ڈی پی او اٹک کی طرف سے تمام تھانہ جات میں خواتین افسران کو ویکٹم سپوٹ آفیسرز تعینات کیا گیا ہے جن کوہراسگی اور تشدد کا شکار خواتین کی معاونت کرنے کے علاوہ انہیں سائیکلوجیکل سپورٹ فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے۔

خواتین پر تشدد میں ملوث ملزمان اور مجرمان کی کڑی نگرانی کے لیے بھی حکمت عملی مرتب کی گئی ہے۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اٹک رانا شعیب محمود نے تمام پولیس افسران کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ کسی تھانے کی حدود میں کسی خاتون کے ساتھ ہراسگی یا بدتمیزی کے واقعات نہ ہوں اور اگر کوئی مکروہ شخص اس قبیح فعل میں ملوث ہو تو اسے بلاتاخیر گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ خواتین پر تشدد ایک غیر انسانی فعل ہے جسکی اجازت کوئی مہذب معاشرہ نہیں دے سکتا۔ہمارا مذہب اور قومی کلچر بھی خواتین کی عزت اور وقار کو ہر حال میں ملحوظ خاطر رکھنے کا درس دیتا ہے اور اس کی عملی مثال 1400سال پہلے رسول اللہ ؐ نے پیش کی تھی جب اُنہوں نے عرب کے اس معاشرے جہاں خواتین کو زندہ درگور کرنا قابل فخر سمجھا جاتا تھا میں نہ صر ف خواتین کو عزت بخشی بلکہ ماں کے قدموں تلے جنت پنہاں ہونے کا بھی بتایا۔

حسن ابدال شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments