حاصل پور میں محکمہ صحت کے حکام کی مبینہ چشم پوشی سے عطائیت کا دھندہ عروج پر

ی محلوں اور نواحی قصبوں میں عطائیوں نے موت بانٹنے کی دکانیں کھولیں،عطائی کلینکوں کے باہر کوالیفائیڈ ڈاکٹروں کے نام لکھ کر سادہ لوح افراد کو لوٹنے لگے د*کم فیس کے لالچ میں سادہ لوح غریب عوام عطائیوں کے ہاتھوں لٹنے پر مجبور

پیر دسمبر 21:19

حاصل پور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 30 دسمبر2019ء) حاصل پور تحصیل بھر میں محکمہ صحت کے حکام کی مبینہ چشم پوشی سے عطائیت کا دھندہ عروج پر۔ گلی محلوں اور نواحی قصبوں میں عطائیوں نے موت بانٹنے کی دکانیں کھولیں۔عطائی کلینکوں کے باہر کوالیفائیڈ ڈاکٹروں کے نام لکھ کر سادہ لوح افراد کو لوٹنے لگے۔ غیر تربیت یافتہ ڈسپنسرز اور دیگر عملہ آپریشن کرنے میں مصروف ،کم فیس کے لالچ میں سادہ لوح غریب عوام عطائیوں کے ہاتھوں لٹنے پر مجبور۔

محکمہ صحت کے ذمہ داران سب اچھا کی رپورٹ دینے لگے۔مقامی شہریوں کا وزیراعلی پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق حاصل پور تحصیل بھر کے گلیوں محلوں اور مضافات قائم پور، جمالپور، چھونا والا ،اور دیگر مقامات پر عرصہ دراز سے غیر تربیت یافتہ عطائی ڈاکٹروں نے کلینک اور سرجیکال ہسپتال کھول کر وہاں کوالیفائیڈ ڈاکٹرز کی موجودگی ظاہر کرتے ہوئے سادہ لوگ غریب مریضوں کو موت بانٹنے کا دھندہ شروع کر رکھا ہے۔

(جاری ہے)

سرجن ڈاکٹرز کی بجائے غیر تربیت یافتہ ڈسپنسرز چند ہزار روپے فیس لیکر ڈلیوری آپریشن کر کے محکمہ صحت کے حکام کو ماموں بنا رہے ہیں۔جبکہ اکثر عطائی کلینکس کے ساتھ بلالائسنس میڈیکل اسٹور اور لیبارٹریاں بھی قائم کر رکھی ہیں۔دکانوں اور مکانوں میں آپریشن تھیٹر بنا کر انسانی زندگیوں سے کھیلنے کا کاروبار محکمہ صحت کے ذمہ داران افسران اور ہیلتھ کیئر کمیشن کی مبینہ چشم پوشی اور غفلت کا نتیجہ ہے مقامی شہریوں میں سید مجاہد علی ،ملک ظہیر اقبال ،اختر علی نے وزیراعلی پنجاب اور صوبائی وزیر صحت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ عنوان :

حاصل پور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments