برطرف مسائل ہیں،عوام کے پاس پی ایس پی کے علاوہ کوئی آپشن نہیں،مصطفی کمال

,س صوبے اور ملک کو چلانے والے اگر حالات کو بہتر کرنے کیلئے کام کررہے ہوتے تو میں ان مشکلات کو برداشت کرلیتا،چیئرمین پی ایس پی

ہفتہ ستمبر 23:28

برطرف مسائل ہیں،عوام کے پاس پی ایس پی کے علاوہ کوئی آپشن نہیں،مصطفی ..
حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 21 ستمبر2019ء) پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفی کمال نے کہا ہے کہ لوگوں کے پاس پی ایس پی کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں، ہر طرف مسائل اور تباہی کی نہ ختم ہونے والی داستان ہے ۔ اس صوبے اور ملک کو چلانے والے اگر حالات کو بہتر کرنے کیلئے کام کررہے ہوتے تو میں ان مشکلات کو برداشت کرلیتا۔ وہ حیدرآباد کے پکاقلعہ گراؤنڈ میں پارٹی کے جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔

جس سے پارٹی کے سربراہ انیس قائم خانی اور دیگرنے بھی خطاب کیا۔ مصطفی کمال نے کہاکہ کراچی میں صفائی کے نام پر وفاقی ، صوبائی و مقامی حکومت مہم چلارہی ہے اور ناکام ہورہی ہیں۔ مجھے آنے والے کل میں بھی صرف اندھیرا ہی نظر آرہا ہے۔ ظالموں کے ساتھ ظلم سہنے والوں کو بھی کل جواب دینا پڑے گاکیونکہ اگر ظالموں کو آج نہیں روکا گیا تو پھر یہ ظلم بڑھتا چلا جائے گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ میں اس کیخلاف جہاد کرنے آیا ہوں جس کے ایک اشارے پر شہر بند ہوجاتے تھے ۔ میرا رب میری نیت جانتا تھا ، میرا راستہ حق کا راستہ ہے۔ یزید کربلا کی جنگ جیت کر بھی ہارا۔ انہوں نے کہاکہ ہم جب الیکشن ہارے تو میں نے شکر ادا کیا کیونکہ ہماری کامیابی کا سفر الیکشن کے بعد شروع ہوا۔ ہار جیت کرانے والوں کو عوام بددعائیں دے رہے ہیں۔

انہوں نے اس عوام کو ہر بار دھوکہ دیا اور اب پھر دھوکہ دے رہے ہیں۔ میں موجودہ میئر جیسا میئر بن کر اپنی قبر بھاری کرنا نہیں چاہتا۔ ہمیں وہ لوگ چاہئیں جو کردار والے ہوں۔ ہمیں صرف جیتنا نہیں کامیابی حاصل کرنا ہے۔ کونسلر اور وزیر بننے سے مسائل حل نہیں ہوجاتے اگر آپ کا کردار اچھا ہوگا تو لوگ آپ کی بات سنیں گے، کچھ روز قبل میئر کراچی نے ہمیںذلیل کرنے کی کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا میں نے میئر کا چیلنج قبول کیا اور ان کے کہنے پر ڈائریکٹر گاربیج بن گیا ۔

وہ سمجھے کہ اس طرح وہ مجھے ذلیل کردیںگے لیکن اللہ نے میرا کردار بلند کیا اور میں نے یہ چیلنج قبول کیا ، میں خود جہاں کچرا جمع تھا وہاں پہنچ گیا لیکن نہ میئر آیا نہ ان کے ساتھی آئے بلکہ ٹیلی فون بند کردیئے اور بعد میں گھبراہٹ میں میرے عہدے کا نوٹیفکیشن بھی واپس لے لیا۔

حیدرآباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments