حیدرآباد میں کورونا وائرس کے بعدپہلے مرحلے میں کھلنے والے اسکولوں میں صورتحال اطمینان بخش ہے ،سعید غنی

اگر وائرس نے دوبارہ خطرناک صورت اختیار کی تو تعلیمی ادارے اور زندگی کے دیگر شعبوں کو بھی بند کرنا پڑ سکتا ہے،وزیر تعلیم سندھ

ہفتہ ستمبر 17:08

حیدرآباد میں کورونا وائرس کے بعدپہلے مرحلے میں کھلنے والے اسکولوں ..
حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 19 ستمبر2020ء) صوبائی وزیر تعلیم و محنت سعید غنی نے ہفتہ کے روز شہباز ہال حیدرآباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حیدرآباد کے دورے کا مقصد ضلع میں سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے کورونا وائرس کے حوالے سے حکومت سندھ کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز پر عملدرآمد کا جائزہ لینا تھا۔

انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے کھولنے سے 15روز قبل ایس او پیز جاری کی گئی تھیں بدقسمتی سے کراچی میں چند سرکاری و نجی اسکولوں کی جانب سے ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں کیا گیا اور چند نجی اسکولوں نے تو چھوٹے بچوں کو بھی اسکول بلا لیا تھا اور اس خلاف ورزی پر گذشتہ روز چار اسکولوں کو سیل کیا گیاہے جبکہ آج بھی ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کراچی کے چار مزید اسکولوں کو سیل کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے واضح کیا کہ حیدرآباد میں کورونا وائرس کے بعدپہلے مرحلے میں کھلنے والے اسکولوں میں صورتحال اطمینان بخش ہے تاہم والدین اور اسکول انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں کیونکہ کورونا وائرس میں کمی تو آئی ہے مگر وائرس اب تک مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا اور معلوم نہیں کہ یہ وائرس کب ختم ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اگر وائرس نے دوبارہ خطرناک صورت اختیار کی تو تعلیمی ادارے اور زندگی کے دیگر شعبوں کو بھی بند کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ انسانی جانیں انمول ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ آئندہ چند روز میں سندھ کے دیگر اضلاع کے دورے کر کے ایس او پیز کا جائزہ لیا جائیگا۔ انہوں نے بتایا کہ این سی او سی کے فیصلے کے تحت تین مراحل میں اسکول کھولنے تھے ، پہلے مرحلے میں نویں کلاس سے یونیورسٹی تک دوسرے مرحلے میں چھٹی سے آٹھویں کلاس تک اور تیسرے مرحلے میں پہلی سے پانچویں کلاس تک اسکول کھولنے کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔

حکومت سندھ کی جانب سے دوسرے مرحلے میں کھولنے والی کلاسز کے پروگرام کو ملتوی کر کے اس کی تاریخ 28ستمبر 2020مقرر کی گئی ہے اور صوبوں کو یہ اختیار ہے کہ وہ صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے علاقوں میں اسکول کھولیں ۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلے کو اس لیے ملتوی کیا گیا ہے کہ 91 نئے کیسز سامنے آئے ہیں اب مزید فیصلہ این سی او سی کے اجلاس میں کیا جائیگا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے سرکاری و نجی تعلیمی شعبوں کو ہونے والے نقصان سے واقف ہوں تاہم بچوں کی صحت پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے والدین سے لیکر اسکول انتظامیہ تک واضح ایس او پیز تیار کی گئی ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے ۔

ایک سوال پر صوبائی وزیر نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات بروقت ہونے چاہییں مگر آئین کے مطابق و ہ مردم شماری سے منسلک ہیں کیونکہ مردم شماری کے مطابق ہی حد بندیاں ہوتی ہیں اور حد بندیوں کا کام مردم شماری کے علاوہ نا ممکن ہے ۔ ایک سوال پر صوبائی وزیر نے کہا کہ کئی معاملات میں وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان اختلافات ہوتے رہتے ہیں مگر تعلیم کے مسئلے پر پوائنٹ اسکورنگ نہیں کی جائیگی ۔

آل پارٹیز کانفرنس کے حوالے انہوں نے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے ملک میں لوڈ شیڈنگ ، مہنگائی ، غلط خارجہ پالیسی ، عدلیہ کے خلاف سازشیں اور میڈیا پر قد غن سمیت وفاقی حکومت نے ناکامیوں کے انبار لگا دیے ہیں جس کیلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ملکر عوامی مسائل کے حل کیلئے مشترکہ طور پر کوئی نہ کوئی فیصلہ کریں ۔

اس موقع پر رکن سندھ اسمبلی عبدالجبار، ڈویزنل کمشنر حیدرآباد محمد عباس بلوچ ، ڈی سی حیدرآباد فواد غفار سومرو اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ قبل ازیں صوبائی وزیر تعلیم نے حیدرآباد کا اچانک دورہ کرتے ہوئے قاسم آباد سٹی اور لطیف آباد کے مختلف سرکاری اور نجی اسکولوں کا دورہ کرتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے حیدرآباد میں تعلیمی اداروں کی جانب سے کورونا وائرس کے حوالے سے ایس او پیز پر عملدرآمد پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا۔

حیدرآباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments