وزیر اعظم عمران خان سے ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیرمحمد زبیر کی علماء کے وفد کے ہمراہ گورنر ہاؤس کراچی میں ملاقات

اوقاف ایکٹ اور گھریلو تشدد بل قانون پاس ہو گیا ہے اس پر تمام مسالک کے علماء کو سخت اعتراضات ہیں، یہ سراسر اسلام کے خلاف ہیں، صاحبزادہ زبیر اس سے بھی زیادہ خطرناک بل حال ہی میں پیش ہوا ہے جس میں 18 سال کی عمر سے پہلے اسلام لانے پر بھی پابندی لگا ئی جارہی ہے وزیراعظم کا اظہار حیرانگی اور تعجب کا اظہار، وزیر تعلیم سے بل کے بارے میں دریافت کیا۔ علماء کو کچھ شقوں پر اعتراض ہیں، مل بیٹھ کر حل کریں گے، شفقت محمود تحریک لبیک پاکستان کے بارے میں جو طرز عمل اختیار کیا جارہا ہے اس سے عوام میں مایوسی اور بددلی پھیل رہی ہے،اس مسٴلہ کے حل کی طرف توجہ دی جائے

منگل 28 ستمبر 2021 22:57

وزیر اعظم عمران خان سے ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیرمحمد زبیر کی علماء کے ..
حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 ستمبر2021ء) جمعیت علماء پاکستان (نورانی) و ملی یکجہتی کونسل کے صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیرمحمد زبیر نے علماء کے ایک وفد کے ساتھ گورنر ہاؤس کراچی گزشتہ روز میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی، صاحبزادہ محمد زبیر نے کہا کہ ہم 2002ء کی اسمبلی میں پانچ سال ایک ساتھ رہے اس وقت آپ سے جو تعلقات قائم ہوئے اس کی بناء پر 2018ء کے انتخابات میںہماری کوشش تھی کہ جے یو پی جس کے قائدعلامہ شاہ احمد نورانیؒ اور مولانا عبدالستار خان نیازیؒ سے بھی آپ کی بڑی محبت تھی ان کی جماعت آپ کے ساتھ مل کر الیکشن لڑے، انہوں نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل جس میں تمام مسالک کی جماعتیں ملک میں فرقہ وارنہ ہم آہنگی کو قائم رکھنے کیلئے ایک اتحاد میں جمع ہیں اس میں سے بھی بعض جماعتیں اس الیکشن میں آپ کا ساتھ دینا چاہتی تھیں لیکن میرے خیال میں شایدآپ کے بعض ساتھیوں کو یہ گوارانہ ہوا کہ باہر کی دنیا میں کہیں آپ کا امیج خراب نہ ہوجائے کہ اتنے سارے مولوی آپ کو سپورٹ کررہے ہیںاس لئے ہماری یہ کوشش کامیاب نہیں ہو سکی، وزیراعظم نے کہا کہ میرا امیج تو باہر کی دنیا کو اچھی طرح پتہ ہے جس پر صاحبزادہ زبیر نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ اپنی ہر تقریر کا آغاز ایاک نعبدو ایاک نستعین سے کرتے ہیں اوروزیر اعظم بنتے ہی آپ نے ریاست مدینہ کا نظام لانے کا اعلان کیا لیکن افسوس آپ کے بعض ساتھی آپ کے ویژن کو خراب کررہے ہیں، اوقاف ایکٹ اور گھریلو تشدد بل کے نام سے جو قانون پاس ہو گیا ہے اس پر تمام مسالک کے علماء کو سخت اعتراضات ہیں کہ اس میں بہت سی چیزیں سراسر اسلام کے خلاف ہیں، وزیراعظم نے اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے وزیر تعلیم شفقت محمود سے اس بارے میں دریافت کیا جس پر انہوں نے کہا کہ اس کی کچھ شقوں پر علماء کو اعتراضات ہیں وہ ہم ان سے بیٹھ کر حل کر لیں گے، صاحبزادہ زبیر نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ خطرناک بل حال ہی میں پیش ہوا ہے جس میں 18 سال کی عمر سے پہلے اسلام لانے پر بھی پابندی لگا ئی جارہی ہے، اس پر وزیراعظم کو بتایا گیا کہ اسلامی نظریاتی کونسل اور وزارت مذہبی امور نے اس کو مسترد کردیا ہے، وزیراعظم نے علماء کو یقین دلایا کہ پاکستان میں اس قسم کا بل ہر گز منظور نہیںگا، تحریک لبیک پاکستان کے بارے میں صاحبزادہ زبیر نے وزیر اعظم عمران خان سے کہا کہ ان کے بارے میں جو طرز عمل اختیار کیا جارہا ہے اس سے عوام میں مایوسی اور بددلی پھیل رہی ہے بلکہ حکومت کی طرف سے نفرت کے جذبات پیدا ہورہے ہیں اس مسٴلہ کے حل کی طرف توجہ دی جائے، وزیر اعظم نے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان کی طرف سے پر تشدد کاروائیاں ہوئیں جس میں سینکڑوں پولیس اہلکار شہید اور زخمی ہوئے ہیں اور بہت سی املاک کو نقصان پہنچاہے اس کے باعث پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ اگر آپ نے ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا تو ہم بغاوت کردیں گے، صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے کہا کہ آپ علمائے اہلسنت کے اکابرین کو ملاقات کا وقت دیں اس قسم کے مسائل کا حل بھی نکالا جا سکتا ہے۔

حیدرآباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments