سب کو اس ملک میں مذہب کی مکمل آزادی حاصل ہے ، چیف جسٹس

آئین نے ہر قسم کے مذہب کے لوگوں کو جو اختیار دیا ہے اس کی پاسداری کرتے رہیں گے۔ جسٹس گلزار احمد کا حیدرآباد میں نوارتری میلے کی تقریب سے خطاب

Sajid Ali ساجد علی اتوار 24 اکتوبر 2021 11:17

سب کو اس ملک میں مذہب کی مکمل آزادی حاصل ہے ، چیف جسٹس
حیدرآباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 24 اکتوبر 2021ء ) چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ سب کو اس ملک میں مذہب کی مکمل آزادی حاصل ہے ، قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے قیام سے پہلے ہی مذہب کی آزادی کا اعلان کیا تھا ، آئین نے ہر قسم کے مذہب کے لوگوں کو جو اختیار دیا ہے اس کی پاسداری کرتے رہیں گے۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد ایک روزہ دورے پر حیدرآباد پہنچے اور سرکٹ ہاؤس کے شیو مندر میں جاری سالانہ میلے کی تقریب میں خصوصی شرکت کی ، پاکستان ہندو کونسل کے چیئرمین رمیش واکوانی نے چیف جسٹس گلزار احمد کا استقبال کیا اور انہیں شال ، تھر کی رلی اور لنگھی کا تحفہ پیش کیا ، اس موقع پر چیف جسٹس گلزار احمد کے ہمراہ ان کی اہلیہ بھی موجود تھیں جب کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی آمد کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور میلے میں پہنچنے پر ان کا شاندار استقبال اور آتشبازی بھی کی گئی۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے اس موقع پر نوارتری میلے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندو برادری کو میلے کی مبارکباد پیش کرتا ہوں ، سب کو اس ملک میں مذہب کی آزادی حاصل ہے کیوں کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے قیام سے پہلے ہی مذہب کی آزادی کا اعلان کردیا تھا ، پراپرٹی پر قبضے کے کیسز آتے ہیں، اس سلسلے میں چیئرمین ایکویو ٹرسٹ بورڈ کو بارہا سمجھایا ہے کہ ہندو پراپرٹی واپس کروائی جائے ، سرکٹ ہاؤس مندر کے معاملے کو بھی دیکھیں گے ، کیوں کہ آئین نے ہر قسم کے مذہب کے لوگوں کو جو اختیار دیا ہے اس کی پاسداری کرتے رہیں گے۔

چیئرمین پاکستان ہندو کونسل رمیش کمار واکوانی نے کہا کہ چیف جسٹس کی آمد پر ان کے مشکور ہیں، ان کا اہلخانہ کے ہمراہ یہاں آنا ہندو برادری کیلیے اعزاز ہے ، چیف جسٹس کی بدولت ٹیری مندر تعمیر ہوچکا ہے، ٹیری مندر کے حوالے سے چیف جسٹس نے سخت ایکشن لیا ، اس مندر کے افتتاح کیلیے چیف جسٹس کو دعوت پیش کرتا ہو، کیوں کہ یہ مندر گلزار احمد کی وجہ سے فعال ہوا ہے۔

رمیش کمار نے کہا کہ مینارٹی کمیونٹی کے مندروں کی بحالی کیلیے چیف جسٹس نے اہم اقدامات کروائے لیکن مینارٹیز کی ملکیت پر قبضے آج بھی ہورہے ہیں ، سندھ میں پچاس فیصد ملکیت پر قبضے ختم نہیں ہوسکے، اویکیو ٹرسٹ کا سندھ میں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ، سندھ حکومت کے مسائل ہیں جنہیں حل کروایا جائے، جیکب آباد میں ہمارے اقلیتی ممبر کو اٹھا کر مارا گیا، جامشورو میں بھی ایسا ہی واقعی رونما ہوا ، مینارٹیز کے ساتھ ظلم بند ہونے چاہیئے، سندھ حکومت ان معاملات پر سست روی سے کام لیتی ہے۔

حیدرآباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments