سندھ اور بلوچستان کی جنرل انڈسٹریز کے تمام کیپٹو پاور پلانٹس سے گیس کی فراہمی بند کرنے کے فیصلے پر حکومت فوری نظرثانی کرے، صدر حیدر آباد چیمبر

پاکستان میں صرف 28 فیصد آبادی کو پائپ گیس ملتی ہے اور 72 فیصد آبادی سلنڈر سمیت متبادل ذرائع استعمال کر رہی ہے، محمد الطاف میمن کا خطاب

اتوار 28 نومبر 2021 21:20

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 نومبر2021ء) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد الطاف میمن نے کہا ہے کہ سندھ اور بلوچستان کی جنرل انڈسٹریز کے تمام کیپٹو پاور پلانٹس سے گیس کی فراہمی بند کرنے کے فیصلے پر حکومت فوری نظرثانی کرے، ایک طرف سیکریٹری پیٹرولیم کہتے ہیں کہ گھریلو استعمال کے لئے سلنڈر گیس استعمال کرنی ہوگی، دوسری طرف حکومت صنعتوں کے لئے گیس کی فراہمی بند کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

وہ مجلس عاملہ کے ماہانہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، محمد الطاف میمن نے کہا کہ پاکستان میں صرف 28 فیصد آبادی کو پائپ گیس ملتی ہے اور 72 فیصد آبادی سلنڈر سمیت متبادل ذرائع استعمال کر رہی ہے، صنعتیں صرف پاکستان کے گیس کے ذخائر میں سے 18.8 فیصد استعمال کرتی ہیں، اُس کے باوجود ہر سال موسم سرما میں گیس بحران میں سب سے پہلے حکومت صنعتوں کی گیس بند کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گیس کی مقامی پیداوار ملکی ضرورت کو پورا کرنے سے قاصر ہے اور گیس کے ذخائر میں مسلسل کمی بھی دیکھنے میں آرہی ہے جبکہ درآمدی گیس تنازعہ کا شکار رہی ہے اور بیرون ملک سے درآمد کی جانے والی گیس پر بدانتظامی کے الزامات بھی سننے میں آتے ہیں، اجلاس نے حکومت پاکستان اور حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ حیدرآباد کے چھوٹے صنعتکار اور مقامی صنعتوں کو گیس کی فراہمی یقینی بنائے تاکہ صنعتکار جو آئے دن حکومتی ترجمانوں کی بیان بازی سے ذہنی اذیت میں مبتلا ہوجاتے ہیں اُن کی پریشانی میں کچھ کمی واقع ہو سکے، اِجلاس میں سینئر نائب صدر محمد ادریس میمن، نائب صدر مسرور اقبال، سلیم الدین قریشی، دولت رام لوہانہ، چوہدری محمد اسلم، شیخ احمد حسین، ڈاکٹر محمد اسماعیل فاروق نامی اور شفقت اللہ میمن موجود تھے۔

حیدرآباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments