ہم سندھ میں انسانی حقوق ، عورتوں اور اقلیتوں کے حقوق کیلئے سندھ سمیت مختلف شہروں میں مصروف عمل ہیں ، میڈم پشپا کماری

سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب سے چھوٹی عمر کی جبری شادیوں کی روک تھام پر کام کیا جارہا ہے ، اب تک ہم نے کئی شادیاں رکوائی ہیں

اتوار 5 دسمبر 2021 22:40

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 دسمبر2021ء) سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کی ممبر میڈم پشپا کماری نے کہا ہے کہ ہم سندھ میں انسانی حقوق ، عورتوں اور اقلیتوں کے حقوق کیلئے سندھ سمیت مختلف شہروں میں مصروف عمل ہیں ، ہماری کوشش ہے کہ سندھ میں ہونے والے جاگیرداری نظام، وڈیرہ کلچر کا خاتمہ ہو ، ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب سے چھوٹی عمر کی جبری شادیوں کی روک تھام پر کام کیا جارہا ہے ، اب تک ہم نے کئی شادیاں رکوائی ہیں، سندھ میں میرج ایکٹ میں شادی کی عمر کم سے کم 18 سال ہے لیکن کچھ قوانین میں 16سال کی عمر بھی موجود ہے، انہوں نے کہاکہ سندھ ہیومن رائٹس کمیشن عورتوں کے حقوق کے حوالے سے آنے والی قانون سازی اور عورتوں کیخلاف ہونیو الی تشددکے واقعات کی روک تھام کیلئے کام کررہی ہے اور ہم نے بہت سارے کیسز اس طرح کے حل کئے ہیں اور ہماری کوشش ہوتی ہے کہ عورتوں پر تشدد کے کیسز کو ترجیحاً حل کرتے ہیں، انہوں نے کہاکہ کچھ عرصے سے خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنے والوں کو گم کیا جارہا ہے جس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں اور اعلیٰ حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے کیونکہ ہمارا کام خواتین کا تحفظ کرناہے۔

متعلقہ عنوان :

حیدرآباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments