جو قومیں لائبریریوں کی اہمیت نہیں سمجھتیں وہ ختم ہوجاتی ہیں، ان کی زبان، علم اورشعور ختم ہو جاتے ہیں،چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ

لائبریری سب کا مشترکہ خزانہ اور شعور کی علامت ہے، جن قوموں کے پاس شعور ہو وہی قومیں آگے بڑھتی اور ترقی کرتی ہیں، جسٹس احمد علی ایم شیخ

ہفتہ 22 جنوری 2022 15:26

جو قومیں لائبریریوں کی اہمیت نہیں سمجھتیں وہ ختم ہوجاتی ہیں، ان کی زبان، علم اورشعور ختم ہو جاتے ہیں،چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ
حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 جنوری2022ء) چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی ایم شیخ نے کہا ہے کہ جو قومیں لائبریریوں کی اہمیت نہیں سمجھتیں وہ ختم ہوجاتی ہیں، ان کی زبان، علم اورشعور ختم ہو جاتے ہیں، لائبریریوں کا مشترکہ خزانہ ہی شعور کی علامت ہے۔وہ حیدرآباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ عشائیہ کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے، چیف جسٹس سندھ کو اجرک اور سندھی ٹوپی کے روائتی ثقافتی تحائف پیش کئے گئے، جسٹس احمدعلی ایم شیخ نے حیدرآباد ڈسٹرکٹ بار کے عہدیداروں اور مختلف شعبوں کے ملازمین کو اعلی کارکردگی پر شیلڈ بھی دیں۔

چیف جسٹس احمد علی ایم شیخ نے خطاب میں کہا کہ حیدرآباد میں ان کو جو محبت ملتی ہے وہ اسے زندگی بھر نہیں بھلا سکتے، ہائیکورٹ بار ہو یا ڈسٹرکٹ باریا حیدرآباد کے وکلا، میں جب بھی آتا ہوں بڑی محبت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حیدرآباد ڈسٹرکٹ بار کے صدر کا بڑی لائبریری کے قیام کا مطالبہ ضرور پورا ہو گا، چند روز میں اس سلسلے میں عمل آپ دیکھ لیں گے، انہوں نے کہا کہ لائبریری سب کا مشترکہ خزانہ اور شعور کی علامت ہے، چیف جسٹس سندھ نے کہا کہ جن قوموں کے پاس شعور ہو وہی قومیں آگے بڑھتی اور ترقی کرتی ہیں، جو قومیں لائبریریوں کو اہمیت نہیں دیتیں وہ اپنی، بولی، علم اور شعور سے محروم ہو جاتی ہیں۔

حیدرآباد ڈسٹرکٹ بار کے صدر آصف شیخ نے چیف جسٹس کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بدانتظامی، کرپشن کے باعث صورتحال تشویشناک ہے، غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہو رہا ہے، جیوڈیشری کو صورتحال بہتر بنانے کے لئے کردار ادا کرنا ہو گا، انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے ہماری درخواست پر سروس اپلیٹ ٹریبونل حیدرآباد میں قائم کر دیا ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ کسٹم اپلیٹ ٹریبونل اور این آئی آر سی کی عدالتیں بھی حیدرآباد میں قائم کی جائیں، اے جی آخوند ہال کی چھت پر بڑی لائبریری کے قیام کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔

تقریب میں سندھ ہائیکورٹ کے ججز جسٹس نعمت اللہ پھیلپھوٹو، جسٹس محمد اقبال کلہوڑو، جسٹس خادم حسین تینو، جسٹس امجد علی سہتو، جسٹس شمس الدین عباسی، جسٹس آغا فیصل، جسٹس عبدالمبین لاکھو، جسٹس ذوالفقار علی سانگی، جسٹس عدنان الکریم میمن، سپریم کورٹ کے جسٹس (ر)غلام ربانی قریشی، سندھ ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ جج عبدالرسول میمن، سیشن جج حیدرآباد غلام رسول سموں، پاکستان بار کونسل کے رکن یوسف لغاری، ہائیکورٹ ڈسٹرکٹ بار کے عہدیداروں، سیشن، ایڈیشنل سیشن و سول ججز، سینئر وکلا سمیت بار کے ارکان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

حیدرآباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments