مولانا شاہ احمد نورانی اور پیر صاحب پگارا دونوں اس ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے خواں تھے،صاحبزادہ ابوالخیرمحمد زبیر

پیرصاحب پگارا علامہ شاہ احمدنورانی سے انتہائی محبت اورعقیدت رکھتے تھے اور آپ کو اپنا چھوٹا بھائی کہتے تھے،صدر جے یوپی نورانی

اتوار 23 جنوری 2022 21:35

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 جنوری2022ء) جمعیت علما پاکستان(نورانی)و ملی یکجہتی کونسل کے صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیرمحمد زبیرنے کہا ہے کہ مولانا شاہ احمد نورانی اور سید مردان شاہ پیر صاحب پگارا دونوں اس ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے خواں تھے، پیرصاحب پگارا علامہ شاہ احمدنورانی سے انتہائی محبت اورعقیدت رکھتے تھے اور آپ کو اپنا چھوٹا بھائی کہتے تھے۔

وہ جمعیت علما سکندرریہ کے زیر اہتمام سید مردان شاہ کی یاد میں منعقدہ علمی ادبی روحانی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، صاحبزادہ ابوالخیرمحمد زبیرنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا شاہ احمد نورانی اور سید مردان شاہ المعروف پیر صاحب پگارا دونوںمیں سیاسی کے ساتھ ساتھ خانقاہی تعلق بھی تھا، دونوں کا روحانی اور سیاسی ویژن بڑا واضح تھاوہ پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ اور اسلامی اقدار کے تحفظ کیلئے جدوجہد کررہے تھے پیر صاحب پگارا کی خانقاہ سے متصل جامعہ راشدیہ علمی ،دینی اور روحانی مرکز ہے جو خانقاہی نظام کیلئے انتہائی ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ اس وقت پورے سندھ میں کوئی معیاری درسگاہ شمار ہوتی ہے تو وہ جامعہ راشدہ ہے اور اس کا فیض صرف سند ھ کے اندر نہیں پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے یہاں کے فارغ التحصیل طلبا دنیا کے مختلف مقامات میں علم دین کی خدمات انجام دے رہے ہیںاور یہی مشترکہ صفت قائد اہلسنت علامہ شاہ احمد نورانی میں موجود تھی، انہوں نے بھی سیاست کے ساتھ ساتھ اپنی خانقاہ کو بھی آبادرکھااور ورلڈ اسلامک مشن کے تحت پوری دنیا میں مدارس اور دینی ادارے قائم کئے ،مساجدقائم کیں، الحمدللہ آج56سے زائد ملکوں میں ان کے قائم کردہ ادارے علم دین کو فروغ دے رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ان دونوں شخصیات کا نظریہ تھا کہ پاکستان میں بھی ایسا نظام نفاذ ہوجس کے اندر اسلام کا بول بالا ہوکیونکہ اسلام کی خاطر پاکستان بنایا تھااور پاکستان کی تخلیق کامقصد پورا ہوتاکہ پاکستان میں نظام مصطفیؐ کانفاذ ہوسکے قائد اعظم کے سینکڑوں ارشاد موجود ہیں جس میں آپ نے فرمایا کہ پاکستان اس لئے بنایا تھا تاکہ وہاںقرآن و سنت کے احکامات نافذ کریں اور تجربہ کریں کہ اسلامی نظام کس طرح نافذ ہوتا ہے اور کس طرح اس پر عمل کیا جاتا ہے لیکن افسوس 76سال گزر جانے کے باوجود ہم اس ملک میں اسلامی قانون نافذ نہیں کرسکے علامہ شاہ احمد نورانی اور پیر صاحب پگارا دونوں قائدین اور سیاسی رہنماں کی محبت کی وجہ بھی یہ تھی کہ دونوں یہ چاہتے تھے کہ اس ملک میں اللہ کے محبوب کا نظام نافذ ہواس عظیم مقصد کیلئے وہ جدوجہد کررہے تھے ان شا اللہ وہ وقت ضرور آئے گا جب اس ملک میں نظام مصطفے نافذ ہو گا۔

(جاری ہے)

کانفرنس سے علامہ حافظ محمد یونس سکندری مرکزی صدرجمعیت علما سکندریہ ،علامہ عباس قادری ،صحافی منیر احمد،ڈاکٹر فاروق عبدالحق،مفتی محمد اسماعیل سکندری ،مفتی صاحبداد سکندر،مفتی رجب علی،علامہ اللہ ویوسکندری،علامہ اسد علی سکندری،عبدالباسط سکندر،ڈاکٹر محمد یونس دانش ،عبدالرئوف الوانی ،صاحبزادہ محمود احمد قادری نے بھی خطاب کیاکانفرنس میں جمعیت علما سکندریہ سے وابستگان کے ساتھ ساتھ مختلف سیاسی ،سماجی رہنماں ،مذہبی شخصیات ، اہل علم شخصیات نے شرکت کی اور پیر صاحب پگارا کی خدمات پر روشنی ڈالی۔

حیدرآباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments