اب بہت ہوچکا، پاکستان کو بچانے کیلئے ایک ہی راستہ اور حل بچا ہے کہ عمران خان کو جمہوری، آئینی اور قانونی طریقے سے ہٹانا ہوگا، بلاول بھٹوزرداری

سلیکٹڈ حکومت کو ہٹاکر عوامی راج قائم کرنا ہوگا، جو کسانوں، مزدوروں اور عام آدمی کا راج ہوگا، اور اگر ایسا نہ ہوا تو تبدیلی کے نام تباہی ہوتی رہے گی، چیئرمین پیپلزپارٹی نااہل و نالائق ترین حکومت کی وجہ سے ایک کے بعد دوسرا بحران پیدا ہو رہے ہیں، فصلوں کی مناسب قیمت نہیں مل رہی، ٹڈی دل کے حملے کے دوران کسانوں کو لاوارث چھوڑ دیا گیا تھا، پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے فصلوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے،موجودہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے صرف زرعی معیشت کو نقصان نہیں پہنچا، بلکہ فوڈ سکیورٹی کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے،حیدرآباد میں ٹریکٹرمارچ کے شرکاء سے خطاب

پیر 24 جنوری 2022 23:00

اب بہت ہوچکا، پاکستان کو بچانے کیلئے ایک ہی راستہ اور حل بچا ہے کہ عمران خان کو جمہوری، آئینی اور قانونی طریقے سے ہٹانا ہوگا، بلاول بھٹوزرداری
حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جنوری2022ء) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اب بہت ہوچکا، پاکستان کے کسانوں، زراعت اور معیشت کو بچانے کے لیئے ایک ہی راستہ اور حل بچا ہے کہ عمران خان کو جمہوری، آئینی اور قانونی طریقے سے ہٹانا ہوگا۔ ملک میں جاری کھاد کے بحران، فصلوں کی مناسب و منصفانہ قیمتیں نہ ملنے اور مہنگائے کے خلاف پی پی پی کی اپیل پر کسانوں کی جانب سے منعقدہ ٹریکٹر مارچ سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ سلیکٹڈ حکومت کو ہٹاکر عوامی راج قائم کرنا ہوگا، جو کسانوں، مزدوروں اور عام آدمی کا راج ہوگا، اور اگر ایسا نہ ہوا تو تبدیلی کے نام تباہی ہوتی رہے گی۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج زرعی معیشت تباہ ہو رہی ہے، کسان بھوکا سونے پر مجبور ہے۔

(جاری ہے)

زرعی معیشت پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، لیکن اسے توڑ دیا گیا ہے۔ نااہل و نالائق ترین حکومت کی وجہ سے ایک کے بعد دوسرا بحران پیدا ہو رہے ہیں۔ فصلوں کی مناسب قیمت نہیں مل رہی، ٹڈی دل کے حملے کے دوران کسانوں کو لاوارث چھوڑ دیا گیا تھا، پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے فصلوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے صرف زرعی معیشت کو نقصان نہیں پہنچا، بلکہ فوڈ سکیورٹی کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کچھ روز قبل ساہیوال، لیہ اور لاڑکانہ میں کسانوں نے احتجاج کیا، آج حیدرآباد ڈویژن سمیت سکھر ڈویژن، ملتان اور حتی کہ راولپنڈی میں احتجاج ہورہا ہے۔ ہم دیہاتوں سے نکل کر شہروں کے مرکز میں کھڑے ہوکر حکمرانوں کو سمجھا رہے ہیں کہ کسانوں کے مسائل حل کرو۔

پی پی پی کا موقف ہے کہ کسان خوشحال تو ملک خوشحال۔ ہم نے اپنی حکومت کے دوران کسانوں کے مسائل کے حل کے لیئے ہر ممکن قدم اٹھایا۔ لیکن آج آج کسان کھاد کے لیے لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر ایک بیگ کھاد کے حصول کے لیے پریشان ہیں۔ پی پی پی چیئرمین نے نشاندھی کرتے ہوئے کہا کہ صدر پرویز مشرف کے دور میں بھی ملک مسائل کا شکار تھا، آٹا اور چینی کے حصول کے لیے لائنوں میں لگے تھے لیکن صدر آصف زرداری نے ایک سال کے اندر یہ مسائل حل کیے، اور گندم کے بحران پر قابو پایا اور ہم اضافی گندم بیرون ملک برآمد کرنے کے قابل ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ آج کسانوں کا معاشی قتل ہو رہا ہے، جسے ہم برداشت نہیں کریں گے۔ آج کسان بھوکا سوئے گا تو کل پوری قوم بھوکی سوئے گی۔ اس وقت ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری تاریخی سطح پر پہنچ چکی ہے، ہم قومی اسمبلی میں مسائل کی نشاندہی کر کے تھک گئے مگر حکومت کی جانب سے کوئی ایکشن نہیں لیا جارہا۔ سلیکٹڈ حکومت کو کسانوں کی کوئی فکر نہیں۔

چیئرمین بلاول بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ملک میں اگر کسانوں اور عوام کے لیئے ہمدردی کسی کو رہی ہے تو وہ پی پی پی قیادت کو رہی ہے۔ قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو، شہید محترمہ بینظیر بھٹو، اور سابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری کو عوام کی فکر رہی ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کے نظام سے بغاوت کرکے کسانوں کو حقوق دیے، تاریخی لینڈ ریفارمز کیں، کسانوں کو زمینوں کے مالکانہ حقوق دیے، جبکہ شہید بینظیر بھٹو بھی کسانوں سے بے انتھا پیار کرتی تھیں، انہوں نے اپنے دور حکومت میں بیوروکریسی کی مخالفت کے باوجود کاشتکاروں کے مسائل حل کیے۔

پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ اگر پاکستان کی معیشت کو بچانا ہے تو عمران خان کو بھگانا ہوگا، ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ 27 فروری کو ہم کراچی سے نکلے گے، حیدر آباد کے عوام بھی ہمارے ساتھ شامل ہوں گے اور وہاں کے عوام کی حمایت کے ساتھ اس حکومت کو جمہوری، قانونی اور آئینی طریقے سے گھر بھیجیں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکمران اتحاد پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ سے تعلق رکھنے والے سلیکٹڈ حکومت کے سہولتکار سندھ کو نقصان پہنچانے کی سازش کر رہے ہیں، وہ سندھ کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جب تک لسانی تنظیمیں ہمیں آپس میں لڑاتی رہیں گی، ہم اپنے حقوق حاصل نہیں کرسکیں گے۔ میں ہر شہری کا نمائندہ ہوں۔ میں کسی بھی سندھی بولنے والے، اردو بولنے والے یا پشتو بولنے والے کے ساتھ ناانصافی ہونے نہیں دوں گا۔ عوام ان لسانی تنظیموں کی سازش کو اپنی یکجہتی قائم رکھ کر ناکام بنائیں۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ وزیراعلی سندھ کی جانب سے متعارف کردہ نئے بلدیاتی نظام کو کالا قانون کہنے والوں کا منہ کالا ہوگا، تنقید کرنے والوں کو اپنی شکست کا خوف ہے۔

سندھ کے عوام ان مسترد لوگوں کو ایک بار پھر مسترد کریں گے، یہ ان کی آخری کوشش ہے۔ انہوں نے عوام کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ مجھے حیدرآباد کا میئر جیالا چاہیئے۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ میئر کے ساتھ مل کر عوام کے مسائل حل کرنے کے لیئے محنت کروں گا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جو اپنے قائد سے وفا نہیں کر سکے وہ کسی اور سے کیا وفا کریں گے، وہ لوگ جو پاکستان کے خلاف نعروں پر تالیاں بجاتے تھے، وہ اس شہر کے دشمن ہیں۔ دریں اثنا، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ، صوبائی وزرا، ارکان اسمبلی اور پارٹی رہنما بھی اس موقعے پر موجود تھے۔

حیدرآباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments