میمن محلہ پنگریو کی بجلی گزشتہ سات روزسے بند کرنے کے خلاف متاثرہ صارفین کی بڑی تعدادسڑکوں پرآگئی

ہفتہ اپریل 16:25

پنگریو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 اپریل2019ء) حیدرآبادالیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) پنگریوکے عملے کی جانب سے میمن محلہ پنگریو کی بجلی گزشتہ سات روزسے بند کرنے کے خلاف متاثرہ صارفین کی بڑی تعدادسڑکوں پرآگئی اورانہوں نے پریس کلب پنگریو کے سامنے دھرنا دے کرپنگریوجھڈواورپنگریوٹنڈوباگوروڈ بلاک اورٹریفک معطل کردیااحتجاجی صارفین نے حیسکوکے مقامی افسران اورعملے کے خلاف شدیدنعرے بازی کی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے احتجاجی صارفین کے نمائیندوں محمداشرف شورو.

(جاری ہے)

ڈاکٹرفضل الرحمان عدالرشیدمیمن اوروفااعجازاحمدمیمن نے کہا کہ حیسکوعملے نے پنگریو کے میمن محلے کی بجلی گزشتہ سات روزسے بلاجوازطورپرمعطل کررکھی ہے جس کی وجہ سے پورامحلہ بجلی سے محروم ہے انہوں نے کہا کہ میمن محلے کے صارفین کی اکثریت باقاعدگی کے ساتھ اپنے بجلی کے بل اداکرتی ہے تاہم اس کے باوجودپورے محلے کی ایل ٹی تاریں اتارکرعوام کوگزشتہ سات روز سے بجلی سے محروم کردیا گیا ہے احتجاجی مظاہرین نے کہا کہ اگرمحلے میں نادہندہ صارفین ہیں توان کے بجلی کے کنکشن منقطع کیے جانے چاہییں مگراس کے بجائے پورے محلے کی ایل ٹی تاریں اتارکرہرماہ بھاری بل اداکرنے والے صارفین کوبجلی کی سہولت سے محروم کردیاگیا ہے بجلی نہ ہونے کے باعث پورامحلہ تاریکی میں ڈوب گیا ہے عوام شدیدگرمی اورمچھروں کی بہتات میں راتیں جاگ کرکاٹنے پرمجبورہیں انہوں نے کہا کہ صارفین نے اس حیسکوگردی کے خلاف حیسکوچیف اوردیگرحکام کوتحریری شکایات کی ہیں مگران حکام نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیااحتجاجی مظاہرین نے کہا کہ بجلی نہ ہونے کے باعث واٹرپمپ بند ہیں جس کی وجہ سے عوام پینے کے پانی کے حصول سے محروم ہیں جبکہ ہمارے بچوں کی تعلیم بھی متاثرہورہی ہے احتجاجی دھرنے کی اطلاع ملنے پراسسٹنٹ کمشنرٹنڈوباگولیاقت علی لوندمظاہرین کے پاس پہنچے اورمظاہرین کے مطالبات معلوم کیے مظاہرین نے اسسٹنٹ کمشنرکومعاملے کے بارے میں آگاہ کیا جس پراسسٹنٹ کمشنرنے ایس ڈی اوحیسکوتلہارکوطلب کرلیا ایس ڈی اوحیسکومولے ڈنوسنگراسی احتجاجی دھرنے میں پہنچے تو دھرنے کے شرکا نے شدیدنعرے بازی کی بعدازاں اسسٹنٹ کمشنرٹنڈوباگوکی ثالثی میں احتجاجی مظاہرین اورایس ڈی اوحیسکوکے درمیان مذاکرات ہوئے مذاکرات میں بھی فریقین کے درمیان گرمی سردی ہوتی رہی تاہم اسسٹنٹ کمشنرٹنڈوباگونے ایکسیئن حیسکوبدین سے رابطہ کرکے بجلی بحال کرادی مگر تین روز میں واجبات ادانہ کرنے والے صارفین کے خلاف کاروائی کرنے کا فیصلہ کیاگیامذاکرات کے بعددھرناختم کردیاگیا تاہم چارگھنٹے سے زائدتک دھرناجاری رہنے کے باعث روڈ کے دونوں اطراف گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اورمسافروں کوشدیدمشکلات اورپریشانیوں کاسامناکرنا پڑا.

حیدرآباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments