سندھ میں 60لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں، چائلڈ پروڈکشن پالیسی کے سوا بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ناممکن ہے، رانا آصف حبیب

ہفتہ ستمبر 23:55

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 ستمبر2019ء) ہیومن ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن اور چائلڈ رائٹس موومنٹ سندھ کے کنوینر رانا آصف حبیب نے حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں 60لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں، چائلڈ پروڈکشن پالیسی کے سوا بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ناممکن ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ ساحل ادارے کی رپورٹ کے مطابق سندھ میں گزشتہ سال 1016 بچے صنفی جنسی زیادتی کا شکار ہوئے ، سندھ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی ایکٹ 2011ء کے مطابق ڈپٹی کمشنر 29 اضلاع میں ڈسٹرکٹ کوآرڈنیشن کمیٹیاں بنانے کے ذمہ دار ہیں جوکہ آج تک نہیں بنائی جاسکی ہیں۔

جبکہ بچوں کے حقوق کے آزاد کمیشن کا قیام بھی عمل میں نہیں آسکا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سندھ کے بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، عالمی سروے 2018ء کے مطابق خوراک کی کمی کے سبب بچوں میں نشوونما متاثر ہورہی ہے ، سندھ میں سب سے زیادہ تھرپارکر ضلع میں غذائی قلت کا سامنا ہے وہاں جہاں بچوں کی اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت بچوں کے حوالے سے بنائے گئے قوانین پر عمل کرائے تاکہ بچوں کے حقوق کا تحفظ کیا جاسکے۔

متعلقہ عنوان :

حیدرآباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments