مولانا مودودیؒ نے نظام کی تبدیلی کے لیے جس راستے کا انتخاب کیا تھا جماعت اسلامی اس پر چلتی رہے گی، حافظ طاہر مجید

آئین کو اس کے روح کے مطابق نافذ کرنے کے لیے اور انتخابی نظام کے اصلاح اورایک موثر نظام احتساب کے لیے ایک بڑی جدوجہد کی ضرورت ہے

اتوار ستمبر 23:10

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 ستمبر2019ء) امیر جماعت اسلامی حیدرآباد حافظ طاہر مجید نے کہا ہے کہ مولانا مودودیؒ نے نظام کی تبدیلی کے لیے جس راستے کا انتخاب کیا تھا جماعت اسلامی اس پر چلتی رہے گی، جماعت اسلامی ہی پوری قوم اور ملت کو ان بحرانوں سے نجات دلا سکتی ہے عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دیں،جماعت اسلامی ملک میں قومی اثاثوں کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے گی اور ملک اور قوم کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرے گی، مولانا مودودیؒ نے قیادت اور نظام کی تبدیلی کے لیے جس راستے کا انتخاب کیا تھا جماعت اسلامی اس پر چلتی رہے گی، آئین کو اس کے روح کے مطابق نافذ کرنے کے لیے اور انتخابی نظام کے اصلاح اورایک موثر نظام احتساب کے لیے ایک بڑی جدوجہد کی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہارانہوں نے زونل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، حافظ طاہر مجید نے کہا کہ جماعت اسلامی نے دین کے اس تصور کی بنیاد پر اپنی طویل جدو جہد کو جاری رکھا ہے،مولانا مودودیؒ اور علامہ اقبال کے درمیان ایک رابطہ موجود تھا اور مولانا،علامہ اقبال کے فلسفی اور خواب کی تعبیر کی ترجمانی کے لیے جماعت اسلامی قائم کی، انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعدقراردادِ مقاصد کی مہم میں مولانا مودودی ؒ نے بہت اہم کر دار ادا کیا اور دیگر علماء کو ساتھ ملا کر ایک تحریک پیدا کی اور قرار دادِ مقاصد کی منظوری کو یقینی بنایاجس کے بعد ریا ست کے نظام کو اسلام اور اقتدار اعلیٰ،اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کر لیا گیا۔

سید مودودی ؒ نے اس تحریک اور قراردادِ مقاصد کو پورا کر نے کے لیے ملک میں دشواری اور جمہوری جدو جہد کی داغ بیل ڈالی اور جو طریقہ کار اور لائحہ عمل مر تب کیا وہ آج بھی دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کے لیے مشعل راہ ہے، جماعت اسلامی نے اللہ کے دین کے کے ساتھ تعلق اور جذبوں کو تقویت دی ہے، انہوں نے کہا کہ 1973ء کا آئین جس میں عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ہے اور اسلام کے حاکمیت کو تسلیم کیا گیا ہے آج بھی اس بات کی ضرورت ہے کہ اس آئین کو اپنی پوری روح کے ساتھ نافذ کیا جانا چاہیے،اس کے نفاذ میں ہی ملک کے حالات بہتر ہو سکتے ہیں اور انتخابی نظام کے اصلاح اورایک موثر نظام احتساب کے لیے ایک بڑی جدوجہد کی ضرورت ہے،غربت کرپشن اور حکمرانی کی نااہلی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے،افغانستان اور پاکستان میں امن کا قیام ناگزیر ہے دونوں ملکوں کو چاہیے کہ بیرونی مداخلت کو موقع نہ دیں امریکا اور بھارت دونوں ملکوں کو کمزور اور تباہ کرنا چاہتے ہیں، جماعت اسلامی ہی پوری قوم اور ملت کو ان بحرانوں سے نجات دلا سکتی ہے عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دیں،جماعت اسلامی ملک میں قومی اثاثوں کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے گی اور ملک اور قوم کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرے گی، انہوں نے کہا کہ مولانا مودودی نے قیادت اور نظام کی تبدیلی کے لیے جس راستے کا انتخاب کیا تھا جماعت اسلامی اس پر چلتی رہے گی، جماعت اسلامی نے پاکستان کے اندر اسلام کی روح ڈالی اور آج بھی اس کا اثر مو جود ہے، جماعت اسلامی کی جدو جہد اور تیز اور مزید طاقت ور ہوگئی ہے، پاکستان میں نظر یاتی جنگ صرف جماعت اسلامی نے لڑی ہے اور آئندہ بھی جماعت اسلامی ہی لڑے گی، جماعت اسلامی کا راستہ اور سمت درست اور برحق ہے، جماعت اسلامی نے دنیا کو بتا یا کہ اسلام ایک نظام حیات ہے جو زندگی کے تمام دائروں پر محیط ہے، جماعت اسلامی نے بلدیاتی اداروں میں حکومتی سطح پر بھی امانت اور دیانت کے ساتھ اپنا کر دار ادا کیا، جماعت اسلامی جمال الدین افغانی اور علامہ اقبال کے فکر کے مطابق قائم ہو ئی تھی، سید مودودی ؒ اسی فکر کے ترجمان تھے اور ان کی فکر ہی آج ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہے اور کامیابی ان شاء اللہ اسی تحریک اور جدو جہد کو ملے گی، سید مودودی ؒ اور جماعت اسلامی نے پاکستان میں اسلامی دستور کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا ہے جسے کسی صورت نظر نداز نہیں کیا جاسکتا۔

حیدرآباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments