فضائی حادثے میں شہید ہونے والے سینئر صحافی انصار نقوی کی یاد میں حیدرآباد پریس کلب میں تعزیتی ریفرنس

انصار نقوی نے اپنے پیشہ ورانہ فرائض ہمیشہ ایمانداری سے انجام دیئے انہوںنے صحافت میں سچ اور مظلوموں کے حقوق کی آواز کو اپنا شعار بنایا، وہ بہت ملنسار شخص تھے وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے،تعزیتی ریفرنس سے مقررین کا خطاب

ہفتہ نومبر 20:56

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 نومبر2020ء) فضائی حادثے میں شہید ہونے والے سینئر صحافی انصار نقوی کی یاد میں حیدرآباد پریس کلب میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا جس سے مرحوم کی اہلیہ اور بھائی نے بھی خطاب کیا، سینئر صحافی لالہ رحمن سموںنے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ انصار نقوی نے اپنے پیشہ ورانہ فرائض ہمیشہ ایمانداری سے انجام دیئے انہوںنے صحافت میں سچ اور مظلوموں کے حقوق کی آواز کو اپنا شعار بنایا، وہ بہت ملنسار شخص تھے وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے، صحافی محمد حسین خان نے کہاکہ انصار نقوی سے ان کی بہت گہری دوستی تھی وہ ایک اچھے دوست اور اچھے صحافی تھے جن کی دل سے عزت کرتے ہیں، انصاف نقوی اپنے کام ، کردار اور اخلاق کے حوالے سے ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے، سینئر صحافی علی حسن نے کہاکہ حیدرآباد پریس کلب کو بنانے میں انصار نقوی کا بہت اہم کردار ہے وہ بے شمار خوبیوں کے مالک تھے اور مجھے آج بھی یقین نہیں آتا کہ انصار نقوی اب ہم میں نہیں رہے، وہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے، جنید خانزادہ نے کہاکہ انصاری ایک بہترین صحافی کے ساتھ بہترین دوست تھے، شہید انصار نقوی کی اہلیہ ایم پی اے رعنا انصار نقوی نے کہاکہ حیدرآباد پریس کلب کے ہال میں وہ انصار نقوی کے ساتھ ولیمے کی ایک تقریب میں شریک ہوئیں تھیں اور آج اسی ہال میں انصار نقوی کے تعزیتی ریفرنس میں شریک ہیں، انصار نقوی کی جدائی میرے لئے زندگی کا سب سے بڑا دکھ ہے، انہوں نے کہا کہ حیدرآباد پریس کلب میرا گھر ہے اور صحافی میرے رشتہ دار،آج یہاں آکر مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ میں اپنے گھر میں آئی ہوں، انہوںنے کہاکہ انصار نقوی شہید ہیں اور شہید ہمیشہ زندہ رہتا ہے، تعزیتی ریفرنس سے انصار نقوی کے بھائی شاہد نقوی،شاہد شیخ، حمید الرحمن، اقبال ملاح، منصور مری، حامد شیخ، ناصر شیخ، عرفان عرفی، ندیم خاور، ڈاکٹر صولت جعفری و دیگر نے بھی خطاب کیا اور شاندار الفاظ میں انصار نقوی کو خراج عقیدت پیش کیا۔

متعلقہ عنوان :

حیدرآباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments