کورونا سے تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا ، صورتحال بہتر ہوئی تو اسکولز و کالجز سب کھول دیں گے، سعید غنی

منگل نومبر 19:14

حیدر آباد۔24نومبر  (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24نومبر2020ء) :کورونا وائرس کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے 10جنوری کے بعد صورتحال بہتر ہوئی تو اسکولز و کالجز سب کھول دیں گے،کراچی و حیدرآباد کے عوام نے ایم کیو ایم کو ووٹ دیئے جنہوں نے انہیں مایوس کیا پیپلز پارٹی پر اعتماد کریں۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی نے حیدرآباد میں لطیف آباد کے مقامی ہوٹل میں سندھ خانزادہ اتحاد کی جانب سے دیئے گئے استقبالیہ سے خطاب اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہو ئے کہی استقبالیہ سے سابق سینیٹر پی پی سندھ کے سکریٹری اطلاعات عاجز دھامراہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا انہوں نے کہاکہ کرونا وائرس کو سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے کرونا وائرس کی پہلی لہر کے دوران جب ہم نے سنجیدہ اقدامات کئے تو ہمارا مذاق اڑایا گیا تھا لیکن حقیقت کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا ہے انہوں نے کہاکہ حکومت نے 26نومبر سے24دسمبر تک کرونا وائرس کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور25دسمبر سے10جنوری موسم سرما کی تعطیلات ہو نگی اور کرونا وائرس ضابطہ میں آگیا تو پھر تعلیمی ادارے کھولنے پر غور کیا جائے گا تاہم اس مرتبہ طلبہ و طالبات کو پروموٹ نہیں کیا جائے گا انہوں نے کہاکہ اس وقت طلبہ کو امتحانات کے بغیر پروموٹ کیا تھاتو طلبہ وطالبات کا نصاب مکمل ہو نے والا تھا اس مرتبہ تو نصاب کچھ بھی نہیں ہوا ہے اس لیے امتحانات ہونگے انہوں نے کہاکہ آن لائن تعلیم میں انٹر نیٹ و کمپیوٹرز کی کمی کے مسائل تو ہیں لیکن یہ حالات کی نزاکت اور مجبوری ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ کلاس روم میں بیٹھ کر پڑھنے کا نعم البدل کوئی نہیں دعا کریںکہ وبا کی وجہ سے جو خصوصی حالات ہو گئے ہیں ان سے جلد چھٹکارا ملے انہوں نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی بلال بھٹو زرداری کی قیادت میں سفر طے کررہی ہے جو اس وقت پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے جمہوریت کے استحکام کے لیے جدوجہد کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ حیدرآباد ایک تاریخی و خوبصورت شہر رہا ہے لیکن کراچی و حیدرآباد کے عوام نے جس پر پارٹی پر اعتماد کیا اس نے انہیں مایوس کیا ہے ایم کیو ایم کے منتخب نمائندے اگر کام کرتے تو ان دونوں شہروں میں آج جیسے مسائل نہ ہو تے انہوں نے کہاکہ کراچی و حیدرآباد کے عوام نے اگر پیپلزپارٹی پر اعتماد کیا تو تبدیل واضح نظر آئے گی یہ تاثر بھی درست نہیں ہے کہ پی پی میں اردو بولنے والوں کی گنجائش نہیں ہے مذکورہ دونوں شہروں میں تمام تر شیطانیوں کے باوجود پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک بڑھا ہے جو لوگ ڈراتے ہیں کہ پیپلز پارٹی سندھیوں کی جماعت ہے وہ ایک مرتبہ آزما کر تو دیکھیں انہوں نے کہاکہ یہ یاد رکھیں کہ جو نمائندے کسی کے کندھے پر بیٹھ کر اقتدار میں آتے ہیں وہ انہیں کو خوش کرنے کے لیے کام کرتے ہیں عوام کے لیے کچھ نہیں کرتے ہیں۔


حیدرآباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments