جامعہ سندھ جامشورو پر بینکوں کے قرضوں سمیت مجموعی طور پر 71 کروڑ روپے کے بقایاجات ہیں، سندھ حکومت بیل آئوٹ پیکیج دے ،شیخ الجامعہ سندھ

منگل نومبر 23:17

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 نومبر2020ء) شیخ الجامعہ سندھ جامشورو پروفیسر ڈاکٹر محمد صدیق کلہوڑو نے کہا ہے کہ جامعہ سندھ جامشورو پر بینکوں کے قرضوں سمیت مجموعی طور پر 71 کروڑ روپے کے بقایاجات ہیں، ماہانہ لاکھوں روپے سو د ادا کیا جا رہا ہے، وفاقی حکومت سے 50 کروڑ روپے اور صوبائی حکومت سے 1 ارب روپے کے بیل آئوٹ پیکیج دینے کی درخواست کی گئی ہے، گذشتہ ڈھائی ماہ کے دوران ایک ایسا وقت بھی آیا کہ جامعہ کے اکائونٹس میں صرف 20 لاکھ روپے موجود تھے۔

یہ انکشاف انہوں نے جامعہ سندھ کے آفیسرز، ٹیچرز و ملازمین کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کیا، اس موقع پر سوٹا کی صدر ڈاکٹر عرفانہ ملاح، سیکریٹری ڈاکٹر نیک محمد شیخ، جامعہ سندھ افسران ایسوسی ایشن کے صدر انجینئر سجاد حسین شاہ، سیکریٹری منظور علی پنہور، سیوا صدر محمد علی گھانگھرو، سیکریٹری ذوالفقار رستمانی اور ڈینز، ڈائریکٹرز، چیئرپرسنز، اساتذہ، افسران و ملازمین بڑی تعداد میں موجود تھے، شیخ الجامعہ ڈاکٹر کلہوڑو نے اپنے بریفنگ میں بجٹ، اکائونٹس، خرچ و آمدنی کی تفصیلات تمام اسٹیک ہولڈرز کے سامنے رکھیں اور انہیں آئندہ حکمت عملی اور یونیورسٹی کی بہتری کیلئے کیے گئے اقدامات سے تفصیلی آگاہ کیا۔

(جاری ہے)

شیخ الجامعہ سندھ پروفیسر ڈاکٹر محمد صدیق کلہوڑو نے بتایا کہ 15 ستمبر 2020ء تک ان کے چارج لینے کے وقت بینکوں کے قرضوں سمیت جامعہ سندھ پر مجموعی طور پر71 کروڑ روپے کے واجبات تھیں جس کی مد میں آج بھی ماہانہ لاکھوں روپے سود ادا کیا جا رہا ہے، ادارے کو تباہی سے بچانے کیلئے وفاقی حکومت سے 50 کروڑ (500 ملین) اور صوبائی حکومت سے ایک ارب روپے کا بیل آئوٹ پیکیج فوری طور پر فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ گذشتہ 4 سال کے دوران غلط پالیسیوں کے نتیجے میں جامعہ سندھ مکمل طور پر مالی دیوالیہ کا شکار ہو گئی ہے، گذشتہ ڈھائی سال کے دوران ایک ایسا وقت بھی آیا کہ جامعہ کے اکائونٹس میں صرف 20 لاکھ روپے موجود تھے، انہوں نے کہا کہ 15 ستمبر 2020ء پر چارج لیتے ہی انہوں نے ڈائریکٹر فنانس سے اکائونٹس کی تفصیلات طلب کیں، ڈی ایف کی طرف سے فراہم کردہ لسٹ دیکھ کرانہیں حیرت ہوئی کہ جامعہ پر 71 کروڑ سے زائد کا قرضہ تھا، انہوں نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ اگست 2019ء میں حبیب بینک سے 20 کروڑکا قرضہ لیا گیا جس کی مد میں آج تک ماہوار7۱ لاکھ روپے سود ادا کیا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2019ء تک رٹائر ہونے والے ملازمین کو 9 کروڑ روپے پینشن وغیرہ کی مد میں ادا نہیں کیے گئے جس کے بعدبھی جو ملازمین ریٹائرڈ ہوئے، ان کے پیسے بھی ملائے جائیں تو اس مد میں جامعہ سندھ پر مجموعی طور پر 15 کروڑ روپے سے زیادہ کی بقایاجات موجود ہیں، انہوں نے کہا کہ ملازمین کی لیو انکیشمنٹ کی اقساط کی مد میں پونے 3 کروڑ روپے بقایاجات ہیں اور بجلی کا بل ستمبر 2020ء پر 2 کروڑ 30 لاکھ روپے آیا، وہ بھی انہوں نے جوائن کرنے کے بعد ادا کیا، اسی طرح سیمسٹر سائیڈ کے ہونے والے امتحانات کے پہلے حصے کے دوران ٹی اے ڈی اے کی مد میں سوا 2 کروڑ روپے بقایاجات ہیں، 2019ء کے پری انٹری ٹیسٹ کیلئے اسٹیشنری فراہم کرنے والی کمپنیز کے اس وقت 2 کروڑ روپے بقاجات ہیں، ڈاکٹر محمد صدیق کلہوڑو نے کہا کہ ملازمین کی تنخواہ میں سے ماہوار گروپ انشورنس کی مد میں کاٹی جانے والی رقم اکتوبر 2019ء سے اکتوبر 2020ء تک متعلقہ اکائونٹ میں جمع نہیں کی گئی اور اس مد میں گروپ انشورنس کمپنی کو پونے 2 کروڑ پریمیم ادا کرنے ہیں، انہوں نے کہا کہ 2019ء میں ہونے والی پری انٹری ٹیسٹ کے معاوضے کی مد میں ملازمین کے ڈیڑھ کروڑ روپے بقایاجات جامعہ پر رہتے ہیں، مارچ 2020ء سے ہائر ایجوکیشن کمیشن نیڈ بیسڈ اسکالرشپ کی مد میں بھی ڈیڑھ کروڑ روپے یونیورسٹی پر واجبات ہیں، یہ رقم طلباء کو دینے کے بجائے یہ بھاری رقم دیگر مد میں خرچ کی گئی، انہوں نے کہا کہ پرائیوٹ بسوں کے ٹھیکیدار کو 77 لاکھ روپے ادا کرنے ہیں، ملازمین کے میڈیکل کی مد میں 50 لاکھ اور سروس و مرمت کی مد میں 34 لاکھ روپے کے بقایاجات ہیں، وائس چانسلر نے کہا کہ ایم فل ٹیسٹ کی ڈیوٹی کرنے والے ملازمین کے معاوضے کی مد میں 23 لاکھ روپے، سالانہ امتحانات کے پہلے حصے کے معاوضے کی مد میں 23 لاکھ رہتے ہیں جو کہ ڈیوٹی کرنے والے ملازمین کو دینے ہیں جبکہ اسی امتحانات کا دوسرا حصہ کورونا کی وجہ سے اکتوبر منعقد ہوا اور ملازمین کی ڈیوٹیوں کی مد میں ٹی اے ڈی اے اور رمیونریشن کے پیسے مکمل طور پر رہتے ہیں، جو کہ 71 کروڑ کے مجموعی واجبات سے الگ ہیں، انہوں نے کہا کہ پینشن ڈیفرنس کی مد میں 18 لاکھ ، کتابوں کی خریداری کی مد میں گذشتہ سال کے 10 لاکھ روپے اور اخبارات کی مد میں مارچ 2020ء تک 10 لاکھ روپے بقایاجات ہیں، انہوں نے کہا کہ جولائی 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ملازمین کی تنخواہ میں سے ہائوسنگ اسکیم کی ڈولپمنٹ چارجز کی مد میں کاٹی جانے والی 41 ملین روپے بھی متعلقہ اکائونٹ میں جمع نہیں ہوئے، یہ رقم بھی سندھ یونیورسٹی پر واجبات ہے، انہوں نے کہا کہ سوٹا کی ممبرشپ فیس کی مد میں ماہوار کاٹی جانے والی رقم بھی متعلقہ اکائونٹ میں جمع نہیں ہوئی، یہ رقم بھی یونیورسٹی کو ادا کرنا ہوں گی، انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر یونیورسٹی اس وقت 71 کروڑ سے زیادہ کی قرضی ہے جبکہ آمدنی کے ذرائع میں الحاق شدہ کالجز میں پرائیویٹ ہونے والے 2 سالہ بی اے، بی ایس سی، بی کام اور ایم اے کے پوگرام بھی شامل ہے جن کو ہیک کی جانب سے بند کرنے کا کہا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ قابل رحم بات تو یہ ہے کہ اکائونٹس میں 60 کروڑ روپے ہائوسنگ اسکیم کی رقم دکھا کر یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ یونیورسٹی میں مالی خسارہ نہیں ہے جبکہ اربوں روپے مالی ذخائرہ رکھنے والی یونیورسٹی اس وقت مالی دیوالیہ کا شکار ہے، انہوں نے کہا کہ میڈیکل انشورنس کمپنی کو 4 کروڑ سے بڑھا کر سوا 7 کروڑ روپے پر ایک سال کا کانٹریکٹ دیا گیا جس سے یونیورسٹی کا نقصان ہوا، انہوں نے کہا کہ اب میڈیکل انشورنس کو ختم کرکے پینل پر ہسپتالوں کا انتخاب کرنے کی طرف جا رہے ہیں جس کیلئے ایک کمیٹی بھی تشکیل کی گئی ہے جو ہسپتالوں سے بات چیت کر رہی ہے جس کا مقصد ملازمین کو مشکل وقت میں قرضہ لے کر علاج کرانے سے بچانا،ا خراجات کوکم کرنا اور یونیورسٹی کو مالی طور پربہتر بنانا ہے، انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات طے تھی تاہم ان کی طبیعت بہتر نہ ہونے پر ان سے ملاقات نہیں ہو سکی، انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو 50 کروڑ اور سندھ سرکار سے ایک ارب روپے کے بیل آئوٹ پیکیج کی درخواست کی گئی ہے، امید ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں مثبت جواب دیں گی، انہوں نے کہا کہ بیل آئوٹ پیکیج ملنے کے سواء جامعہ سندھ کا مالی طور پر اپنے پائوں پر کھڑا ہونا ممکن نہیں۔

حیدرآباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments