قتل، خواتین و بچوں پر تشدد، جنسی زیادتی کے مقدمات کی تفتیش کو موثر بنانے کیلئے حیدرآباد پولیس آڈیٹوریم میں ڈی این اے کی اہمیت کے موضوع پر سیمینار

2015ء سے اب تک انہیں ڈی این اے کیلئے 8ہزار سے زائد نمونے ملے جن میں 2ہزار نمونے میچ ہوئے اور ملزمان کو سزائیں بھی ہوئیں: فرانزک ماہرین

منگل 26 اکتوبر 2021 23:27

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 26 اکتوبر2021ء) حیدرآباد ریجن میں قتل، خواتین و بچوں پر تشدد، جنسی زیادتی کے مقدمات کی تفتیش کو موثر بنانے اور تفتیشی افسران کی صلاحیتوں کو نکھارنے کیلئے حیدرآباد پولیس آڈیٹوریم میں ڈی این اے کی اہمیت کے موضوع پر سیمینار ہوا ۔جس میں حیدرآباد ریجن کے پولیس اور پولیس کے تفتیشی افسران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

سیمینار کے شرکاء سے ڈی آئی جی حیدرآباد ، ایس ایس پی حیدرآباد ،پولیس افسران سمیت لمس کی فرانزک ماہرین نے جدید و سائنسی تقاضوں کے مطابق تفتیشی اور شواہد کو محفوظ بنانے کے طریقہ کار کے متعلق لیکچر دیئے، اس طرح کے سیمینار کے ذریعے پولیس افسران کو تفتیش کیلئے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جاسکے گا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے لمس کے فرانزک ماہرین نے بتایا کہ 2015ء سے اب تک انہیں ڈی این اے کیلئے 8ہزار سے زائد نمونے ملے جن میں 2ہزار نمونے میچ ہوئے اور ملزمان کو سزائیں بھی ہوئیں۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ فرانزک تفتیش کی اہمیت اب کافی حد تک بڑھ چکی ہے ۔ اس موقع پر ڈی آئی جی حیدرآباد شرجیل کھرل نے بتایا کہ ہم نے ریجن میں ضلعی سطح پر فرانزک لیب کی منظوری حاصل کرلی ہے ، ہم ڈی این اے سے متعلق افسران کی تربیت کروارہے ہیں تاکہ بچوں اور خواتین سے جڑے مقدمات کے مضبوط شواہد اور بہتر تفتیش کے ذریعے منطقی انجام تک پہنچایا جاسکے۔

متعلقہ عنوان :

حیدرآباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments