میمن انجمن گرلز ہائی اسکول کی وسیع عمارت سرکاری محکموں کے حکام بلڈر مافیا کے گٹھ جوڑ سے تیزی سے مسمار کی جانے لگی

500 سے زائد خاندانوں کی بچیوں کو تعلیم کی سہولت سے محروم کر دیا گیا،وزارت تعلیم ڈائریکٹر اسکولز اور ضلعی انتظامی حکام چپ سادھے سہولت کاری کر رہے ہیں

جمعہ 26 نومبر 2021 20:20

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 نومبر2021ء) فقیر کا پڑھ کلاتھ مارکیٹ سٹی میں واقع قدیم میمن انجمن گرلز ہائی اسکول کی وسیع عمارت سرکاری محکموں کے حکام بلڈر مافیا کے گٹھ جوڑ سے تیزی سے مسمار کی جا رہی ہے، 500 سے زائد خاندانوں کی بچیوں کو تعلیم کی سہولت سے محروم کر دیا گیا،وزارت تعلیم ڈائریکٹر اسکولز اور ضلعی انتظامی حکام چپ سادھے سہولت کاری کر رہے ہیں، شاپنگ سینٹر کی تعمیر سے پورا علاقہ جنگل بن جائے گا، تجاوزات کی بھرمار اور مصروف کاروباری مرکز ہونے کی وجہ سے پہلے ہی سارا دن ٹریفک جام رہتا ہے اور مزید کمرشل تعمیرات سے علاقہ مفلوج ہو جائے گا۔

فقیر کا پڑھ کلاتھ مارکیٹ کے علاقے میں کئی کالجز اور اسکولز واقع ہیں جبکہ کئی مارکیٹیں بھی ہیں، تجاوزات کی بھرمار کی وجہ سے صبح سے رات تک میمن ہسپتال سے گرونگر چوک تک شدیدٹریفک جام رہتا ہے، فقیر کا پڑھ چوک پر پیٹرول پمپ کے ساتھ واقع قدیم عمارت میں کئی عشروں سے میمن انجمن گرلزہائی اسکول چل رہا تھا یہ عمارت محکمہ اوقاف کی ملکیت بتائی جاتی ہے جو میمن انجمن نے کرائے پر لے رکھی تھی اور یہاں اس کی نگرانی میں تاریخی گرلز اسکول چل رہا تھا لیکن پتہ چلا کہ گذشتہ سال کرائے اور بقایاجات کے تنازعے پر محکمہ اوقاف نے عمارت کو کچھ عرصہ پہلے سربمہر کردیا تھا اور اب عمارت کو بلڈر مافیاز نے تڑوانا شروع کر رکھا ہے، اتنا بڑا اسکول کیوں ختم کیا گیا ہے محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ اس پر چپ سادھے ہوئے ہیں، میمن برادری میں دولتمنداور مخیر حضرات کی کمی نہیں سماجی خدمات میں اس کا بڑا حصہ رہتا ہے اس لئے کرائے کے بقایاجات کی ادائیگی اصل مسئلہ نہیں ہو سکتی اس لئے بچیوں کی والدین سمجھتے ہیں کہ محکمہ اوقاف محکمہ تعلیم سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلیٰ حکام میمن انجمن اسکول کی انتظامیہ اور طاقتور سرمایہ گروپ اور بلڈر مافیا کی کے درمیان گٹھ جوڑ اور بڑی سودے بازی کے نتیجے میں یہ اہم گرلز اسکول ختم کیا گیا ہے، یہ کسی قصبے کے دور افتادہ گائوں کا اسکول نہیں تھا کہ بچے کم ہوں بلکہ بہت گنجان آباد علاقے کا قدیم اسکول تھا جس میں 500 سے زائد بچیاں زیرتعلیم تھیں، حکومت سندھ،محکمہ تعلیم،محکمہ اوقاف سمیت اس بڑے اسکول کو ختم کرنے والوں نے بڑی تعلیم دشمنی کی ہے، اسکول کی قدیم عمارت کے ساتھ ایک سبزہ زار بھی واقع تھا اور ایک نئی عمارت بھی تعمیر کی گئی تھی، بلڈر مافیاز نہ صرف یہ سب ہڑپ کر رہا ہے بلکہ آس پاس کی عمارتیں بھی خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے، عوامی رد عمل سے بچنے کے لئے جھانسہ دیا جا رہا ہے کہ شاپنگ سینٹر کے اوپر اسکول کی عمارت تعمیر کی جائے گی، محکمہ تعلیم سندھ،حیدرآباد کے منتخب نمائندے ہونے کے دعویدار سب لا پتہ ہیں، سیاسی اور مالی مفادات کی وجہ سے کسی کی آواز نہیں نکل رہی۔

(جاری ہے)

بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی،پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کنٹرول ایچ ڈی اے، بلدیہ کنٹونمنٹ بورڈ اور دیگر انتظامی اداروں سے گٹھ جوڑ کر کے سٹی لطیف آباد اور قاسم آباد میں تیزی سے غیر قانونی شاپنگ سینٹر کمرشل پلازہ کثیر المنازل سینکڑوں عمارتیں تعمیر ہو چکی ہیں اور مزید کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے، 90 فیصد عمارتوں میں پارکنگ ایریا نہیں ہیں،لے آئوٹ پلان اور نقشے میں پارکنگ ایریاز موجود ہوتے ہیں مگر بعد بلڈرز مافیا متعلقہ اداروں سے سودا کر کے ان میں دوکانیں گودام فلیٹ بنا کر فروخت کر دیتا ہے اس لئے بازاروں مارکیٹوں سڑکوں چوراہوں گرین بیلٹس فٹ پاتھوں پر گاڑیان پارک ہوتی ہیں اور پورا حیدرآباد جنگل بنتا جا رہا ہے، اس سے جارجڈ پارکنگ کے نام پر بھتہ خوری اور ٹریفک پولیس کی کاروائیوں کی صورت میں ماہانہ کروڑوں کا کالا دھندہ ہو رہا ہے۔

فقیر کا پڑھ کے علاقے میں کئی اسکول کالجز بازار مارکیٹیں ہیں اور پہلے بھی ناجائز قبضوں و تجاوزات کی بھرمار ہے، یہ بہت مصروف سڑک ہے جس پر صبح سے رات تک زیادہ وقت ٹریفک جام رہتا ہے ہر چند ماہ بعد تجاوزات کے خاتمے کے لئے یہاں آپریشن ہوتا ہے لیکن نئے سودے کر کے چند ہفتے بعد نئی تجاوزات قائم ہو جاتی ہیں، یہاں کئی سرکاری اداروں،سیاسی گروپوں کے لئے بھتہ خوری کا سالانہ کروڑوں کا کاروبار ہے، اگر یہاں نیا شاپنگ سینٹر شاپنگ پلازہ بن گیا تو پورا علاقہ مفلوج ہو جائے گا اور پیدل چلنا بھی مشکل ہو جائے گا، سپریم کورٹ، ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اور سندھ حکومت اس کا فوری نوٹس لیں، اوقاف دیگر سرکاری محکمے جو بھی ملوث ہیں ان کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے، ان کو بے نقاب کیا جائے اور اسکول کو محکمہ تعلیم کے زیرانتظام بحال کیا جائے اور اسے بلڈر مافیا اور قبضہ مافیا سے بچاہا جائے،سماجی تنظیمیں اور شہری بھی تاریخی گرلز اسکول کو بچانے کے لئے میدان میں آئیں۔

حیدرآباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments