24جنوری کو حیدرآباد میں کسان ریلی ہو گی جس کی قیادت بلاول بھٹو زرداری کریں گے،سیدنویدقمر

اِن ہائوس تبدیلی ممکن ہے لیکن ہم نہ کوئی غیرآئینی راستہ اختیار کریں گے اور نہ ہی کسی کے آلہ کار بنیں گے،سابق وفاقی وزیر

اتوار 23 جنوری 2022 00:25

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 جنوری2022ء) پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن و سابق وفاقی وزیر سید نوید قمر شاہ نے کہا ہے کہ اِن ہائوس تبدیلی ممکن ہے لیکن ہم نہ کوئی غیرآئینی راستہ اختیار کریں گے اور نہ ہی کسی کے آلہ کار بنیں گے، 24 جنوری کو حیدرآباد میں کسان ریلی ہو گی جس کی قیادت بلاول بھٹو زرداری کریں گے۔

وہ لطیف آباد حیدرآباد میں اپنی رہائشگاہ پر میڈیا سے گفتگو کررہے تھے، اس موقع پر پیپلزپارٹی ضلع حیدرآبا دکے صدر صغیر قریشی، آفتاب خانزادہ، احسان ابڑو اور دیگر بھی موجود تھے۔سید نوید قمر شاہ نے کہاکہ 24 جنوری کو پاکستان بھر میں پیپلزپارٹی کسان ریلیاں نکالے گی جس کا مقصد حکومت کی کسان دشمن پالیسیوں کو اجاگر کرنا ہے، حیدرآباد کی ریلی میں سندھ چیمبر آف ایگری کلچر، سندھ آباد گار بورڈ، کسان اتحاد سمیت کسانوں کی دیگر تنظیمیں شامل ہوں گی، انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت کو ہم اتنا کٹہرے میں کھڑا کریں گے جتنا وفاقی حکومت کو کھڑا کرتے ہیں، پی ٹی آئی کے وزرا بے بنیاد باتیں کرتے ہیں وہ بوکھلائے ہوئے ہیں، وہ الزام لگاتے ہیں کہ کھاد اس لئے نہیں مل رہی سندھ کی کھاد افغانستان اسمگلنگ کی جارہی ہے، ہم انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ سندھ کی افغانستان سے کوئی سرحد نہیں ملتی، سندھ اور افغانستان کیخلاف طویل فاصلے پر مختلف سیکورٹی ایجنسیاں تعینات ہوتی ہیں، انہوں نے کہاکہ کسانوں کو کھاد کے علاوہ پانی کا بھی مسئلہ ہے، بیج بھی انہیں صحیح وقت پر نہیں ملتا، حکومت کو ملک میں زراعت کو جو ترجیح دی جانی چاہئے وہ نہیں دیتی، انہوں نے کہاکہ اِن ہائوس تبدیلی ممکن ہے ہم عوامی مسائل قومی اسمبلی اور سینٹ میں اٹھاتے رہتے ہیں لیکن حکومت کی بے حسی انتہا پر ہے، عوامی مسائل کوئی سننے والا نہیں ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ انتظامی اقدامات سے بہتری نہیں آسکتی، ترسیلات اور فراہمی کے معاملات جب تک درست نہیں ہوتے بہتری نہیں آسکتی، انہوں نے کہاکہ 24 جنوری کو ملک بھر کے ہر ڈویژن میں احتجاج کیا جائیگا۔ حیدرآباد ڈویژن کے وہ اضلاع جن کا فاصلہ زیادہ ہے وہ اپنے ڈسٹرکٹ میں احتجاج کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کی طرف سے احتجاج کا سلسلہ 21 جنوری سے شروع ہو اہے جو اس ملک کے پسے ہوئے کسان جنہوں نے ملک کو بنایا وہ ملک کی زرعی ضروریات کو پورا کرتے ہیں ان کے ساتھ جو سلوک ہورہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کسان جس حالت میں اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں انہیں سہولیات دینے کے بجائے حکومت کی طرف سے ان پر عذاب مسلط کیا جارہا ہے۔

حیدرآباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments