لینڈ ریفارمز کے بغیر زرعی شعبہ کی ترقی ناممکن ہے،23 فیصد زرعی رقبہ پر ایک فیصد اشرافیہ قابض ہے، ڈاکٹر مرتضیٰ مغل

ہفتہ دسمبر 12:53

لینڈ ریفارمز کے بغیر زرعی شعبہ کی ترقی ناممکن ہے،23 فیصد زرعی رقبہ پر ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 دسمبر2020ء) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ لینڈ ریفارمز کے بغیر زرعی شعبہ کی ترقی نا ممکن ہے۔ ستر کی دہائی کے بعد زرعی اصلاحات کی جانب پیش رفت نہیں کی گئی جس نے سے اہم ترین شعبہ کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔زراعت کے زوال سے کاشتکاروں کی آمدنی کم اور عوام کے اشیائے خورد و نوش کے اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں اور جاگیرداروں اورکاشتکاروں کے مابین خلیج مسلسل وسیع ہو رہی ہے ۔

ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس وقت پاکستان میں 23 فیصد زرعی رقبہ ایک فیصد مراعات یافتہ افراد کی ملکیت ہے جس کی فلاح و بہبود پر بھرپور توجہ دی جاتی ہے جبکہ 43 فیصد رقبہ ان کاشتکاروں کے پاس ہے جو چند ایکڑ زمین کے مالک ہیں اور انکی کوئی نہیں سنتا۔

(جاری ہے)

کاشتکاروں کی ترقی اور انکے تحفظ کا بھی خاطر خواہ انتظام نہیں ہے اور انھیں موسم، مافیا اور سود خوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ ریسرچ اینڈ دویلپمنٹ کے نام پر مذاق ہو رہا ہے۔

ملک میں صرف گندم اور گنے کی امدادی قیمت کا اعلان کیا جاتا ہے جبکہ دیگر فصلوں کی پرواہ نہیں کی جاتی۔ با اثرشوگر لابی نے سال  2004 کے بعد سے اب تک گنے کے زیر کاشت رقبہ میں چودہ فیصد اضافہ کروا لیا ہے جبکہ ملک کی اہم ترین فصل کپاس کے زیر کاشت رقبے میں 26 فیصد کمی آ چکی ہے جس نے ٹیکسٹائل سیکٹر اور اس سے وابستہ لاکھوں افراد کے روزگار کو دائوپر لگا دیا ہے۔

فصلوں کے رقبہ  میں کمی  کی وجہ سے پچیس لاکھ ٹن گندم، پانچ لاکھ ٹن چینی اور پچاس لاکھ گانٹھوں سے زیادہ کپاس درآمد کی جائے گی جس سے ملکی معیشت پر اربوں ڈالر کا اضافی بوجھ پڑے گا اور ادائیگیوں کا توازن بگڑ جائے گا۔ دیہی علاقوں میں ایک طرف تو زراعت تباہی کا شکار ہے تو دوسری طرف مہنگائی شہروں سے زیادہ ہے جس سے غربت اور شہروں کی جانب نقل مکانی کا رجحان بڑھ رہا ہے جس سے شہروں کا انفراسٹرکچر متاثر ہو گا۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments