ایس ای سی پی نے ستمبر میں دو ہزار تین سو پینسٹھ نئی کمپنیاں رجسٹرڈ کیں

پیر اکتوبر 22:41

ایس ای سی پی نے ستمبر میں دو ہزار تین سو پینسٹھ نئی کمپنیاں رجسٹرڈ کیں
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 اکتوبر2020ء) سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نیستمبر 2020 میں دو ہزار تین سو پینسٹھ نئی کمپنیاں رجسٹر کیں جو کہ گزشتہ مالی سال کے اسی ماہ رجسٹر ہونے والی کمپنیوں کے مقابلہ میں انہتر فی صد اضافے کو ظاہر کرتی ہیں۔ ستمبر میں 99 فیصد کمپنیاں آن لائن رجسٹر ہوئیں جبکہ 40 فیصد کمپنیوں کی رجسٹریشن ایک ہی دن میں مکمل ہوئی۔

اس ماہ رجسٹر ہونے والی کمپنیوں میں انہتر فی صد پرائیویٹ لمیٹڈ،اٹھائیس فی صد سنگل ممبرجبکہ تین فی صد میں پبلک ان لسٹڈ، غیر منافع بخش ایسوسی ایشن اور لمیٹڈ لائیبیلیٹی پارٹنر شپ(ایل ایل پی) شامل ہیں۔ ستمبر میں سب سے زیادہ کمپنیاں تجارت کے شعبے میں رجسٹرڈ ہوئیں جن کی تعداد 414 ہے،تعمیرات میں294 ،انفرمیشن ٹیکنالوجی میں 289 سروسز میں 226،رئیل سٹیٹ میں 139،فوڈ اینڈ بیوریج میں 87،کارپوریٹ ایگریکلچر فارمنگ میں 73، ای کامرس میں70،سیاحت میں 79،ایجوکیشن میں 63، انجنئیرنگ میں 61،ادویہ سازی میں 59،ٹیکسٹائل میں46،ٹرانسپورٹ میں42،مارکیٹنگ اور ایڈورٹائزمنٹ میں38،کیمکل میں 37، لاگنگ(کندہ کشی) میں 36، کان کنی میں 35، ہیلتھ کئیر میں 33، بجلی کی پیداوار میں 26،کیبلز انیڈ الیکٹرک گڈز ،اور فیول اینڈ انرجی میں24 ،کمیونیکیشن میں 21، آٹو اینڈ الائیڈ اور پیپر اینڈ بورڈ میں 19، براڈ کاسٹنگ اور ٹیلی کاسٹنگ اور کاسمیٹک اینڈ ٹائلیرٹیز میں 17،سٹیل اینڈ الائیڈ میں14 جبکہ بقیہ 73 کمپنیاں دیگر شعبوں میں رجسٹر ہوئیں۔

(جاری ہے)

علاوہ ازیں،43نئی کمپنیوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی۔ ان کمپنیوں کے سرمایہ کاروں کا تعلق آسٹریلیا،چین، مصر، جرمنی، یونان، ایران، اٹلی، جاپان، نیدرلینڈز، ناروے، سعودی عرب، سنگاپور، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، امریکہ اور یمن سے ہے۔ سب سے زیادہ کمپنیاں اسلام آباد میں رجسٹرڈ ہوئی جن کی تعداد812 آٹھ ہے اس کے بعد بالترتیب لاہور اور کراچی میں 764 اور 348کمپنیاں رجسٹرڈ کی گئیں۔ ایس ای سی پی کے کمپنی رجسٹریشن آفس پشاور، ملتان، فیصل آباد، گلگت بلتستان، کوئٹہ اور سکھر میں بالترتیب33,63,64,97,183 اور 02کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments