پاکستان اور انڈونیشیا کے مابین باہمی تجارت کو فروغ دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں، شکیل منیر

جمعرات 28 اکتوبر 2021 16:36

پاکستان اور انڈونیشیا کے مابین باہمی تجارت کو فروغ دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں، شکیل منیر
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 28 اکتوبر2021ء) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد شکیل منیر نے کہا ہے کہ پاکستان اور انڈونیشیا کی مجموعی آبادی 49کروڑسے زائد افراد پر مشتمل ہے جو  ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے ، دونوں ممالک متعدد شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بڑھانے کی  بھرپور  صلاحیت رکھتے ہیں اور دونوں کے مابین باہمی تجارت کو فروغ دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے انڈونیشیا کی آزادی کی 76 ویں سالگرہ کی یاد میں کاروباری برادری اور سفرا کے اعزاز میں انڈونیشیا کے سفیر ایڈم ایم ٹیوگیو کی طرف سے منعقدہ ایک استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر جمشید اختر شیخ، نائب صدر محمد فہیم خان، عاطف اکرام شیخ، کریم عزیز ملک، ظفر بختاوری، فاد وحید اور غیر ملکی سفارت کاروں سمیت دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔

(جاری ہے)

محمد شکیل منیر نے کہا کہ 2020 میں پاکستان اور انڈونیشیا کی باہمی تجارت تقریبا ً2.5 ارب ڈالر تھی جو دونوں ممالک کی صلاحیتوں اور مارکیٹ کے سائز کے پیش نظر  کافی کم تھی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ باہمی تجارت میں اضافہ کرنے کیلئے پاکستان اور انڈونیشیا کی حکومتیں نجی شعبوں کے ساتھ ہرممکن تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان زیادہ تر پام آئل، بعض اشیا، معدنی ایندھن و تیل، گاڑیاں، کاغذ اور ربڑ کی مصنوعات انڈونیشیا سے درآمد کرتا ہے اور جبکہ پاکستان انڈونیشیا کو زرعی مصنوعات بشمول کھانے پینے کی چیزیں جیسے چاول، ٹیکسٹائل مصنوعات، کھالیں، مچھلی، کاغذ، لوہا وغیرہ برآمد کرتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک محدود اشیاء میں ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کر رہے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک دو طرفہ  تجارت کو بہتر بنانے کے لیے مزید اشیاء کی تجارت کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فارماسوٹیکلز، ماربل و گرینائٹ، آلات جراحی، کھیلوں کا سامان، آئی ٹی مصنوعات، انجینئرنگ کا سامان، پھلوں و سبزیوں سمیت متعدد مصنوعات انڈونیشیا کو برآمد کر سکتا ہے لہذا انڈونیشیا پاکستان سے ان مصنوعات کی درآمد پر غور کرے ۔

  آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا نے ترجیحی تجار ت کا ایک معاہدہ کر رکھا ہے تاہم دونوں ممالک کے نجی شعبوں میں اس کے بارے میں عمومی طور پر آگاہی کا فقدان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہتر روابط کی کمی تجارت کے فروغ کے لیے ایک اور مسئلہ ہے لہذا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک ان مسائل کو حل کرنے کے لیے مطلوبہ اقدامات اٹھائیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا باہمی تعاون کے نئے شعبوں کی تلاش کے لیے تجارتی وفود کے متواتر تبادلوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ملک میں منعقد ہونے والے تجارتی میلوں اور نمائشوں میں نجی شعبوں کی شرکت یقینی بنانے کیلئے ہرممکن تعاون کریں تاکہ وہ اپنی مصنوعات کو ایک دوسرے کے ملک میں متعارف کرا سکیں جس سے باہمی تجارت بہتر ہو گی۔ انہوں نے بزنس کمیونٹی اور دوستوں کے اعزاز میں استقبالیہ کا اہتمام کرنے پر انڈونیشیا کے سفیر کا شکریہ ادا کیا اور اپنی آزادی کی 76ویں سالگرہ منانے پر انڈونیشیا کے سفارتخانے اور عوام کو مبارکباد پیش کی۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments