ایف بی آر کی نئی پراپرٹی ویلیو یشن نے بزنس کمیونٹی میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے ، محمد شکیل منیر

ایف بی آر کے فیصلے سے تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو شدید دھچکا لگے گا اور کاوبار تباہ ہو گا، محمد مسعود

جمعہ 3 دسمبر 2021 00:17

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 دسمبر2021ء) پراپرٹی اور تعمیراتی شعبے سے وابستہ بزنس کمیونٹی نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ ایک ہنگامی اجلاس میں ایف بی آر کی جانب سے اسلام آباد سمیت ملک کے 40 بڑے شہروں کی غیر منقولہ جائیداد کے لیے مقرر کردہ نئی مارکیٹ ویلیو پر شدید تحفظات کا اظہار کیا کیونکہ اس میں غیر معمولی طور پر اضافہ کر دی گیا ہے۔

انہوں نے اس فیصلے کی پرزور مخالفت کی کیونکہ اس سے پراپرٹی اور تعمیراتی شعبے کی کاروباری سرگرمیوں کو بڑا بڑا دھچکا دے گا اور معیشت کی بحال کرنے کی تمام حکومتی کوششوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا لہذا انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایف بی آر معیشت کو شدید نقصان سے بچانے کیلئے فوری طور پر اس فیصلے کو واپس لے۔

(جاری ہے)

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد شکیل منیر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی معاشی ترقی میں پراپرٹی اور تعمیراتی شعبے کی اہمیت کے پیش نظر وزیراعظم نے ایک پرکشش تعمیراتی پیکج فراہم کیا تھا جس سے تعمیراتی شعبے کی کاروباری سرگرمیوں میں تیزی پیدا ہو گئی ہے۔

تاہم ایف بی آر نے اسٹیک ہولڈر ز سے کوئی مشاورت کئے بغیر غیر منقولہ جائیدادوں کی مارکیٹ ویلیو میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے جس سے معیشت کو شدید دھچکا لگے گا، سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو گی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ 2019میں ایف بی آر نے پراپرٹی کی مارکیٹ ویلیو طے کرنے کیلئے پراپرٹی شعبے کے نمائندگان سمیت ایک کمیٹی تشکیل دی تھی لیکن موجودہ فیصلے میں اس کمیٹی کو بالکل نظرانداز کیا گیا ہے اور یکطرفہ پراپرٹی کی ویلیو میں غیر معمولی اضافہ کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی، شرح سود میں اضافے، پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پہلے ہی کاروبار بہت متاثر ہو گیا ہے جبکہ ایف بی آر کے نئے فیصلے سے کاروبار شدید مندی کا شکار ہو گا۔ شکیل منیر نے کہا کہ پچاس سے زائد صنعتوں کا کاروبار تعمیراتی شعبے سے وابستہ ہے لیکن پراپرٹی کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ اس شعبے کے کاروبار کو بری طرح متاثر کرے گا۔

ایک مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں 2019 کی پراپرٹی ویلیوایشن کے مقابلے میں موجودہ ویلیو ایشن کے مطابق ایف ایٹ سیکٹر میں غیر منقولہ جائیداد کی مارکیٹ ویلیو میں 127 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے ، ای الیون سیکٹر میں 163 فیصد سے زائد، ای سیون سیکٹر میں 164 فیصد سے زائد اورایف سیون سیکٹر میں 283 فیصد سے زائد اضافہ ہوا جو ہر لحاظ سے بلا جواز تھا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں پر اعتماد کرتے ہوئے بہت سے غیر ملکی سرمایہ کاروں نے پاکستان میں تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کی تھی لیکن ایف بی آر کے اس اقدام سے ملکی و غیر ملکی سرمایہ بڑی تعداد میں ملک سے باہر جانے کا خدشہ پید اہو گیا ہے جو ہماری معیشت کیلئے بہت نقصان دہ ثابت ہو گا۔ انہوں نے مشیر خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر آئی سی سی آئی سمیت سٹیک ہولڈرز کے ساتھ میٹنگ کر کے اس مسئلے کا کوئی متفقہ حل نکالنے کی کوشش کریں تا کہ معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

آئی سی سی آئی کی ریئل اسٹیٹ اینڈ ڈویلپرز کمیٹی کے کنوینر محمد مسعود نے کہا اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہ وزیراعظم کے تعمیراتی پیکج سے پراپرٹی شعبے میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے جس کے نتیجے میں وفاقی دارالحکومت سمیت ملک میں بڑے بڑے تعمیراتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی طرف سے پراپرٹی کی نئی مارکیٹ ویلیو نے سرمایہ کاروں میں مایوسی کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے اور وہ اسلام آباد سمیت دیگر شہروں میں اپنی سرمایہ کاری پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

انہوں نے پرزور مطالبہ کیا کہ ایف بی آر فوری طور پر اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے اور تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے اس اہم معاملے کا متفقہ حل تلاش کرنے پر توجہ دے۔محمد فہیم خان نائب صدر آئی سی سی آئی، محمد اعجاز عباسی، محمد نوید ملک، طاہر عباسی، رانا قیصر شہزاد، اشفاق چھٹہ، سعید احمد بھٹی، خالد چوہدری ، چوہدری طاہر، ضیاء خالد چوہدری اور دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور ایف بی آر کی نئی مارکیٹ ویلیو کی شدید مخالفت کی کیونکہ اس سے پراپرٹی اور کنسٹرکشن شعبے کی کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوں گی اور ہزاروں افراد بے روزگار ہو جائیں گے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایف بی آر اپنا یکطرفہ فیصلہ واپس لے اورمسئلے کو حل کرنے کیلئے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ فوری مشاورت کا عمل شروع کرے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments