پی ایم ڈی سی، پرائیوٹ کالجز نے فیسوں میں اضافے کا فیصلہ کرلیا

میڈیکل کالج کی سالانہ فیس 8 لاکھ سے 9 لاکھ 50 ہزار تک بڑھادی گئی ، ہر طالبعلم کو داخلے کی مد میں 50 ہزار روپے اور 5 فیصد ٹیکس ادا اکرنا ہوگا نئی پالیسی اکتوبر سے فعال ہوگی،اطلاق ان تمام طالبعلم پر ہوگا جنہوں نے ماضی میں داخلہ لیا، جنرل سیکریٹری پی اے ایم آئی

پیر اگست 17:09

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اگست2018ء) چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی مداخلت کے بعد پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) اور پاکستان اسویسی ایشن آف پرائیوٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹکل انسٹیٹیویشن (پی اے ایم آئی) نے میڈیکل کالج کی فیسوں میں اضافے پر آمادگی کا اظہار کردیا۔ موصول دستاویزات کے مطابق میڈیکل کالج کی سالانہ فیس 8 لاکھ سے 9 لاکھ 50 ہزار تک بڑھادی گئی جس کے بعد ہر طالبعلم کو داخلے کی مد میں 50 ہزار روپے اور 5 فیصد ٹیکس ادا اکرنا ہوگا۔

اس ضمن میں فیصلہ کیا گیا کہ ہر طالبعلم والدین یا سرپرست اعلیٰ کے 5 سال پر مشتمل مالی استعداد سے متعلق دستاویزات پیش کرے اور انشورنس سرٹیفکیٹ بھی پیش لازمی حصہ ہوگا۔پی اے ایم آئی اور پی ایم ڈی سی نے سینٹرل پالیسی نظام کے تحت داخلہ سازی کا فیصلہ کیا ہے۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں چیف جسٹس نے پرائیوٹ میڈیکل کالجز کی جانب سے زائد داخلہ وصولیوں اور ایڈمیشن پالیسی سے متعلق ازخود نوٹس لیا تھا۔

اس ضمن میں عدالت عظمیٰ نے پی ایم ڈی سی رجسٹرار سے رپورٹ طلب کی تھی اور ریمارکس دیئے تھے کہ بغیر جواز فیسوں میں اضافے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ سپریم کورٹ نے 2010 میں میڈیکل کالج کی فیسوں سے متعلق از خود نوٹس لیا اور بعدازاں فیصلہ سامنے آیا کہ ہر طالبعلم سالانہ 5 لاکھ 50 ہزار روپے ادائیگی کرے گا جس میں 7 فیصد اضافہ کیا جا سکے گا۔2013 میں پرائیوٹ میڈیکل کالجز 6 لاکھ 42 ہزار تک فیس وصول کرنے لگے اور دعویٰ کیا کہ ہم تدریس کے ساتھ 50 بیڈز کا فری ہسپتال کی سہولت فراہم کی جائے گی جہاں طالبعلم پڑھائی کے دوران عملی طور پر فرائض بھی انجام دے سکیں۔

2016 میں پی ایم ڈی سی نے سینٹرل انڈکشن نظام متعارف کرایا تاکہ پرائیوٹ کالجز کو طالبعلم سے فنڈز کی مد میں وصولی سے روک سکے۔ لیکن میڈیکل کالجز کی جانب سے پی ایم ڈی سی کا نظام مسترد کردیا گیا اور انہوں نے عدالت سے حکم امتناع حاصل کرلیا۔2017 میں ایک مرتبہ پھر پی ایم ڈی سی نے پرائیوٹ کالج کے ساتھ مشاورت کا عمل شروع کیا اور فیصلہ سامنے آیا کہ سالانہ فیس 6 لاکھ 42 ہزار سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی جائے اور اسی رقم میں طالبعلم کو تمام سہولیات فراہم کی جائے گی، کوئی اضافی فنڈز طلب نہیں کیے جائیں گے۔

ساتھ ہی کالجز کو ہدایت کردی گئی کہ طالبعلم کو سینٹرل انڈکشن نظام کے تحت داخلہ دیا جائے۔پی اے ایم آئی کے جنرل سیکریٹری وحید خواجہ نے بتایا کہ فیس میں تھوڑا اضافہ ہوا ہے اور اب سینٹرل انڈکشن پالیسی یقینی بنائے گی کہ طالبعلم سے اضافی پیسے وصول نہیں کیے جارہے۔انہوں نے بتایا کہ ’طالبعلم کو سالانہ 9 لاکھ 50 روپے کی ادائیگی کرنی ہوگی اور ایک مرتبہ داخلہ فیس 50 ہزار روپے اور 5 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی اکتوبر سے فعال ہوگی اور اس کا اطلاق ان تمام طالبعلم پر ہوگا جنہوں نے ماضی میں داخلہ لیا اور اب تک ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس مکمل نہیں کیا۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments