سپریم کورٹ نے پنجاب یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر کی تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت منگل تک ملتوی کر دی

جمعہ ستمبر 18:55

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 ستمبر2019ء) سپریم کورٹ نے پنجاب یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر کی تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت آئندہ منگل تک ملتوی کرتے ہوئے اس ضمن میںمتعلقہ حکام سے عملدرآمد کی رپورٹ طلب کرلی ہے اور کہا ہے کہ ہم علم سے محبت نہ کرنے کے باعث پیچھے رہ گئے ہیں،آج تعلیمی اداروں میں سیاست اور پارٹی بازی ہوتی ہے، جوافسوسناک ہے۔

جمعہ کوجسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے پیش ہوکرعدالت کوبتایاکہ درخواست گزار پنجاب یونیورسٹی کی 150 سالہ تاریخ میں پہلی خاتون پروفیسر ہیں لیکن یونیورسٹی کی جانب سے ہائیکورٹ میں میٹنگ منٹس سے متعلق غلط بیانی کی گئی ہے، جس کی وجہ سے یہ تقرری نہیں ہوسکی ،بنچ کے سربراہ نے فریقین سے استفسارکیاکہ کیا قانون کے پروفیسر کی خالی آسامی کے لیے اشتہار دیا گیا تھا توپنجاب یونیورسٹی کے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ اس آسامی کیلئے اشتہار دے دیا گیا ہے اوراس وقت مختلف خالی آسامیوں پر بھرتیوں کا عمل جاری ہے، فاضل جج نے کہاکہ یہاں تعلیمی اداروں میں سیاست اورپارٹی بازی ہوتی ہے ہم اس لئے توپیچھے رہ گئے ہیںکہ ہمیں علم سے محبت نہیں رہی۔

(جاری ہے)

بعدازاں عدالت نے قانون کے پروفیسر کی خالی آسامی پرتعیناتی سے متعلق عملدرآمد رپورٹ طلب کرتے ہوئے مزیدسماعت ملتوی کردی ۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments