اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںنئی قومی تجارتی پالیسی جلد پیش کر دی جائے،وفاقی وزیر تجارت پرویز ملک ..

نئی قومی تجارتی پالیسی جلد پیش کر دی جائے،وفاقی وزیر تجارت پرویز ملک

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 اپریل2018ء) وفاقی وزیر برائے تجارت پرویز ملک نے کہا ہے کہ نئی قومی تجارتی پالیسی جلد پیش کر دی جائے گی جو کاروبار کی ترقی اور برآمدات کو فروغ دینے سے متعلق اقدامات پر مبنی ایک جامع دستاویز ہو گی، حکومت درپیش مسائل سے بخوبی سے آگاہ ہے اور ان کے حل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔ وہ منگل کو یہاں ایک پری بجٹ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔

چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ نعیم زمیندار، سابق وزیر مملکت برائے خزانہ عمر ایوب اور ایف بی آر کے سابق ممبر شاہد حسن نے بھی سیمینار سے خطاب کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ملکی برآمدات کیلئے مشکل وقت رہا ہے تاہم اس سال برآمدات کا حجم 24 ارب ڈالر سے بڑھ جائے گا جو پچھلے سال 20 ارب تھا۔

(خبر جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ صرف ایک ماہ یعنی مارچ میں ملکی برآمدات 2 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دور میں ہمیشہ کاروباری اشاریے بہتر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انفراسٹرکچر کے شعبہ میں بہت سرمایہ کاری ہو رہی ہے جبکہ انڈسٹری کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی سے بھی صنعتی پیداوار پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کاروباری لاگت میں کمی کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، ہماری توجہ گروتھ ریٹ پر مرکوز ہے جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی ترقی کیلئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

پرویز ملک نے کہا کہ تجارت کو فروغ دینے کے سلسلہ میں مختلف ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدوں کیلئے بات چیت ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ بنکنگ انتظام کے تحت بہت جلد ایران کے ساتھ کام کرنے کیلئے بینک دستیاب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے ملک کی کاروباری برادری کو سہولت ہو گی اور تجارت کو فروغ ملے گا۔ اس موقع پر انہوں نے پر بجٹ سیمینار کے انعقاد کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ سیمینار میں پیش کی جانے والی تجاویز کو زیر غور لایا جائے گا۔

سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین نعیم زمیندار نے اس موقع پر ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے اقدامات اور حکومتی پالیسیوں کے بارے میں شرکاء کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، اس سلسلہ میں سرمایہ کاری کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی اور اس کی سٹرٹیجک پوزیشن بڑی اہمیت کی حامل ہے اور اس کے پیش نظر ترقی کے امکانات بہت واضح ہیں۔

انہوں نے ملک میں مقامی کاروباروں کی ترقی اور جوائنٹ وینچرز کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ قبل ازیں سابق وزیر مملکت برائے خزانہ عمر ایوب نے کہا کہ برآمدات کے فروغ کیلئے ایشیاء کی ویلیو ایڈیشن ضروری ہے جس سے ملکی معیشت مضبوط ہو گی اور روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے۔ انہوں نے سی پیک کے حوالہ سے کہا کہ ایسے منصوبوں میں ملکی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں