ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہونے کے ناطے بیورو کریسی کو دنیا کے نئے حقائق اپنانے چاہئیں، شاہد خاقان عباسی

تکنیکی نوعیت کے پیچیدہ مسائل خصوصی تربیت ،موجودہ چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے ٹیکنالوجی کے استعمال کے متقاضی ہیں، سی پیک ملک ، خطہ کی ترقی کیلئے گیم چینجر ثابت ہوگا، وزیراعظم کی نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کے 108ویں نیشنل مینجمنٹ کورس کے شرکاء سے گفتگو

منگل اپریل 18:47

ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہونے کے ناطے بیورو کریسی کو دنیا کے نئے حقائق اپنانے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 اپریل2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہونے کے ناطے بیورو کریسی کو مؤثر ریاستی انتظام ،بہترین فیصلہ سازی کیلئے تیزی کیساتھ تبدیل ہوتے دنیا کے نئے حقائق اپنانے چاہئیں، تکنیکی نوعیت کے پیچیدہ مسائل خصوصی تربیت ،موجودہ چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے ٹیکنالوجی کے استعمال کے متقاضی ہیں، سی پیک ملک اور خطہ کی ترقی کیلئے گیم چینجر ثابت ہو گا۔

وزیراعظم نے یہ بات منگل کو نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کے 108ویں نیشنل مینجمنٹ کورس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے جن میں اقتصادی مسائل، سیکورٹی کے چیلنج اور سماجی و اقتصادی ترقی سے متعلق معاملات شامل ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے تحت اختیارات کی منتقلی کے بعد خدمت کی بہتر فراہمی اور بہتر نظم و نسق کو یقینی بنانے کے چیلنجز بڑھ گئے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ بیورو کریسی کو ان چیلنجوں اور بالخصوص صوبائی سطح پر ان کا حل تلاش کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہونے کے ناطے بیورو کریسی کو مؤثر ریاستی انتظام ،بہترین فیصلہ سازی کیلئے تیزی کیساتھ تبدیل ہوتے دنیا کے نئے حقائق اپنانے چاہئیں۔انہوں نے کہاکہ تکنیکی نوعیت کے پیچیدہ مسائل خصوصی تربیت ،موجودہ چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے ٹیکنالوجی کے استعمال کے متقاضی ہیںبعد ازاں وزیراعظم نے شرکاء سے ان کے خیالات بھی سنے اور قومی اہمیت کے مختلف معاملات کے حوالہ سے سوال دریافت کئے۔

انسداد دہشت گردی کی کوششوں سے متعلق سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ انسداد دہشت گردی ایک مسلسل کاوش ہے جس میں انتہاء پسندی کا سبب بننے والی وجوہات اور عوامل کی بنیاد کو ختم کرنا بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے بڑی قربانیوں کے نتیجہ میں دہشت گردی کو شکست دی ہے۔ سماجی و اقتصادی ترقی کے معاملات بالخصوص ملک کے پسماندہ علاقوں کی ترقی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ایسے مسائل کے حل کیلئے صوبوں کی سطح پر استعداد کار بڑھانے کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک ایک بڑا موقع ہے اور یہ ملک اور خطہ کی ترقی کیلئے ایک گیم چینجر ثابت ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ امید ہے نیشنل سکول آف پبلک پالیسی میں اعلیٰ سرکاری افسران کو دی جانے والی خصوصی تربیت سے انہیں پبلک پالیسی کی تشکیل اور عملدرآمد کو بہتر انداز میں سمجھنے اور انہیں اپنے آپ کو قومی پالیسی کی سطح پر اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کیلئے تیار کرنے میں مدد ملے گی۔ قبل ازیں وزیراعظم سے پاکستان میں چین کے سفیر یائو جنگ نے ملاقات کی جس میں بائو فورم برائے ایشیاء میں شرکت کیلئے وزیراعظم کے آئندہ دورہ چین اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments