اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںاحتساب عدالت، محمد نواز شریف اور مریم نواز کی حاضری سے استثنٰی کی درخواست ..

احتساب عدالت، محمد نواز شریف اور مریم نواز کی حاضری سے استثنٰی کی درخواست منظور

, کیپٹن (ر)محمد صفدر عدالت میں پیش،، واجد ضیاء کے بیان پر جرح جاری،سماعت کل تک ملتوی

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 اپریل2018ء)احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر)محمد صفدر کے خلاف دائر ایون فیلڈ ریفرنس میں محمد نواز شریف اور مریم نواز کی حاضری سے استثنٰی کی درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت آج (بدھ)تک ملتوی کر دی ہے ۔منگل کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سماعت کی تو اس موقع پر سابق وزیر اعظم کے وکیل خواجہ حارث نے درخواست دائر کی کہ ان کے موکل لاہور ایئر پورٹ پر جہاز کے انتظار میں بیٹھے رہے ہیں تاہم موسم کی خرابی کے باعث لاہور سے اسلام آباد کے لئے پرواز دستیاب نہیں ہو سکی جس کے باعث حاضری سے اسثنیٰ دیا جائے جس پر عدالت نے انھیں ایک دن کے لئے حاضری سے استثنٰی دے دیا جبکہ سماعت کے موقع پر کیپٹن (ر)محمد صفدر عدالت میں پیش ہوئے ۔

(خبر جاری ہے)

سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم کے وکیل خواجہ حارث نے جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کے بیان پر چھٹے روز بھی جرح جاری رکھی ۔جرح کے دوران واجد ضیاء نے بتایا کہ گلف اسٹیل سے متعلق واضح ثبوت یا دستاویز نہیں جس سے ثابت ہو کہ شیئرز 1978 سے 1986 کے درمیان بیچے گئے، جو بھی گواہ پیش ہوا اس نے 25 فیصد شیئرز کی 1980 میں فروخت کی بات کی ۔واجد ضیاء نے کہا کہ براہ راست ثبوت بھی نہیں ملا کہ 25 فیصد شیئرز 1978 سے 1986 کے دوران فروخت کیے گئے۔

سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کے وکیل نے سوال کیا کہ پھر آپ نے کیسے نتیجہ اخذ کیا کہ 1978 تا 1986 شیئرز فروخت کیے گئی' جس پر واجد ضیاء نے کہا کہ 1986 میں طارق شفیع نے بی سی سی آئی بنک میں نیا اکاؤنٹ کھلوایا ایسا صرف اس صورت ہوسکتا ہے جب قرض کی پرانی رقم ادا کی جا چکی ہو۔واجد ضیاء نے کہا کہ واجب الادارقم کی ادائیگی تک بینک کسی کا نیا اکاؤنٹ نہیں کھولتا اور طارق شفیع کا نیا اکاؤنٹ کھلوانے سے ثابت ہوتا ہے کہ بینک کا قرض ادا کردیا گیا۔

واجد ضیاء نے مزید کہا کہ جے آئی ٹی نے بینک ریکارڈ حاصل نہیں کیا جس سے ثابت ہو کہ طارق شفیع نے بقایاجات ادا کیے اور اس کی تصدیق کے لئے کسی بینک افسر کا بیان بھی ریکارڈ نہیں کیا۔واجد ضیاء نے عدالت کو بتایا کہ یہ میرے علم میں ہے کہ سپریم کورٹ میں دوران سماعت وکلا کو جے آئی ٹی رپورٹ کا والیم 10 دکھایا گیا جب کہ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کی درخواست پر والیم ٹین کو سربمہر کیا تھا۔عدالت نے مزید سماعت بدھ تک ملتوی کر دی ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں