درجہ حرارت میں متوقع اضافہ اور گرمی کی بڑھتی ہوئی لہروں کی شدت ، ملک میں آب و ہوا کی تبدیلیوں کی روک تھام کیلئے جامع حکمت عملی وضع کی جائے

فاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہد اللہ خان کا گرمی کی حالیہ لہر کے حوالہ سے جاری بیان میں اظہار

منگل اپریل 21:33

درجہ حرارت میں متوقع اضافہ اور گرمی کی بڑھتی ہوئی لہروں کی شدت ، ملک ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 اپریل2018ء) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ درجہ حرارت میں متوقع اضافہ اور ملک میں گرمی کی بڑھتی ہوئی لہروں کی شدت کا تقاضا ہے کہ ملک میں آب و ہوا کی تبدیلیوں کی روک تھام کیلئے جامع حکمت عملی وضع کی جائے۔ ملک میں گرمی کی حالیہ لہر کے حوالہ سے جاری ایک بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ گرمی کی لہر کا تعلق آب و ہوا کی صورتحال سے ہے جو قدرتی عوامل کو نقصان پہنچنے کے باعث ہے اور کچھ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ گرمی یا درجہ حرارت میں اضافہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں کی علامت ہے جو کہ سپرہائی وے اور اسفالٹ سے تیار کردہ سڑکوں اور جنگلات کے انحطاط کی بدولت ہے اور ان عوامل کی وجہ سے گذشتہ 100 سالوں کے دوران زمین کے اوسطاً درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے۔

(جاری ہے)

اسی لئے ہمیں اب گرمیوں اور سردیوں میں شدید موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آب و ہوا کی سائنس نے اس بات کی تصدیق کرکے دی ہے کہ عالمی حدت میں عالمی سطح پر اضافہ کی وجہ سے ہمیں سردیوں گرمیوں میں معمول سے ہٹ کر زیادہ گرمی اور شدید موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2015ء میں کراچی میں گرمی کی لہر نے 1200 سے بھی زائد انسانی جانیں لیں اور ہوا کے کم دبائو اور بہت زیادہ نمی کے باعث 20 جون 2015ء کو درجہ حرارت 60 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زائد رہا جس پر وزارت موسمیاتی تبدیلی نے ماہرین کے ایک گروپ کو سفارشات کی تیاری کا کام سونپا تاکہ شدید ترین گرمی کی لہر آنے کا ایسا کوئی واقعہ مستقبل میں رونما نہ ہو ۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں سے گرمی کی شدید لہر سے پیدا ہونے والی صورتحال پر قابو پانے کیلئے ضروری اقدامات کرنے کی درخواست کی گئی ہے اور اس ضمن میں آگاہی و شعور پیدا کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی نے مستقبل میں گھروں کی سفید میٹریل سے تعمیرات اور گھروں کی چھتوں پر پودے وغیرہ لگانے یا رکھنے اور ٹائون پلاننگ کے اصولوں اور قواعد و ضوابط پر مناسب عمل درآمد کئے جانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور شہروں نیم شہری علاقوں میں درخت لگانے اور ان کی حفاظت کی اور جنگلات کے تحفظ کی ضرورت اور اہمیت پر بھی زور دیا۔

متعلقہ عنوان :

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments