وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس

مختلف ممالک کے ساتھ مفاہمت کی سات یادداشتوں پر دستخط کرنے کی منظوری پریوینش آف سمگلنگ آف مائیگرنٹ آرڈیننس 2018، بار کونسلوں اور بار ایسوسی ایشنوں کیلئے امداد کی تخصیص کیلئے سیلنگ اور یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر کے تقرر کی بھی منظوری

منگل اپریل 22:06

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 اپریل2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منگل کو وزیراعظم آفس میں ہوا۔ اجلاس میں آڈٹ اوور سائٹ بورڈ کی 2017ء کیلئے آڈٹ شدہ مالی سٹیٹمنٹ اور سالانہ رپورٹ پیش کی گئی۔ کابینہ نے م-ختلف ممالک کے ساتھ مفاہمت کی سات یادداشتوں پر دستخط کرنے کی منظوری دی جن کا مقصد اقتصادی اور سٹرٹیجک تعاون کا فروغ اور ایک منصوبہ کی فزیبلٹی سٹڈی تیار کرنا ہے۔

کابینہ نے پریوینش آف سمگلنگ آف مائیگرنٹ آرڈیننس 2018ء کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے 2017-18ء کیلئے بار کونسلوں اور بار ایسوسی ایشنوں کیلئے امداد کی تخصیص کیلئے سیلنگ کی بھی منظوری دی۔ کابینہ کے اجلاس میں یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر کے تقرر کی بھی منظوری دی گئی۔

(جاری ہے)

کابینہ نے ڈائریکٹر جنرل پورٹس اینڈ شپنگ کو پورٹ قاسم اتھارٹی کراچی کے چیئرمین کے عہدے کا اضافی چارج دینے کی تجویز کی بھی منظوری دی۔

کابینہ کو توانائی کے شعبہ، بنیادی ڈھانچہ، صنعتی تعاون اور گوادر کی ترقی سمیت چین۔پاکستان اقتصادی راہداری کے حوالہ سے تفصیلی پریزنٹیشن دی گئی۔ سی پیک کے تحت مختلف منصوبوں کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کابینہ کو بتایا گیا کہ توانائی اور بنیادی ڈھانچہ کی ترقی اقتصادی راہداری کے پہلے مرحلہ کے بڑے شعبے ہیں۔ اقتصادی راہداری کے تحت توانائی کے مختلف منصوبوں سے 17 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی ان کی تکمیل پر قومی گرڈ میں شامل ہو گی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ سی پیک ملک کے بالخصوص کم ترقی یافتہ علاقوں کی سماجی و اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے میں نمایاں مدد دے گا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ سی پیک سے مجموعی ملکی پیداوار میں اضافہ اور معیشت کے مختلف شعبوں کو مربوط بنانے میں مدد ملے گی۔ کابینہ نے قومی شناختی کارڈ اور سمندر پار پاکستانیوں کیلئے قومی شناختی کارڈ کی قیمتوں کے حوالہ سے بھی سمری کی منظوری دی۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments