عالمی ادارہ خوراک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلے کی وزیر مملکت و چیئرپرسن بی آئی ایس پی ماروی میمن سے ملاقات

ْچیئرپرسن بی آئی ایس پی کی اعلی دفتر کا عہدہ سنبھالنے پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو مبارکباد

منگل اپریل 22:06

عالمی ادارہ خوراک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلے کی وزیر مملکت و چیئرپرسن ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 اپریل2018ء) اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلے نے وزیر مملکت و چیئرپرسن بی آئی ایس پی، ایم این اے ماروی میمن سے بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز میں ملاقات کی۔ پاکستان دنیا میں ورلڈ فوڈ پروگرام کا سب سے بڑا ہوسٹ گورنمنٹ ڈونر ہے اور موجودہ پروٹریکٹڈ ریلیف اینڈ ریکوری آپریشنز(پی آر آراو) کو 50ملین امریکی ڈالر ادا کر رہا ہے۔

اپنے استقبالیہ کلمات میں چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے اعلی دفتر کا عہدہ سنبھالنے پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ ان کی تقرری سے پروگرام اپنے عالمگیر مقاصد کے حصول کے قابل ہو گا۔ انہوں نے پاکستان میں بھوک کے خلاف لڑائی، خوراک کی تقسیم میں معاونت اور غذائی معیار کو بہتر بنانے کے حوالے سے انسانی ادارے کے طور پر کام کرنے ڈبلیو ایف پی کے کردار کو سراہا۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ بی آئی ایس پی اپنے مختلف اقدامات کے تحت خواتین کو سماجی، سیاسی اور معاشی اعتبار سے بااختیار بنا رہا ہے۔ ماروی میمن نے امید ظاہر کی کہ ڈبلیو ایف پی اور حکومت پاکستان باہمی تعاون سے بچوں کے سکولوں میں اندراج کیلئے بی آئی ایس پی مشروط مالی معاونت اقدام کے تحت مستحق گھرانوں کے بچوں کی تعلیم کیلئے کام کر سکتے ہیں۔

ماروی میمن نے کہا کہ استحکام اور ساختی اصلاحات کے ایک مجموعہ کے ذریعے پاکستانی معیشت بحال ہوئی جیسے بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے تسلیم کیا اور حکومت پاکستان بی آئی ایس پی کا غربت کے خاتمے کے سب سے بڑے پروگرام کے طور پر آغاز کرنے کے قابل ہوئی۔ ڈیوڈ بیسلے بی آئی ایس پی کی کارکردگی کو حوصلہ افزاء اور غیر معمولی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ دونوں اداروں کے مابین تعاون کے خواہشمند ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی غریب ترین خواتین تک رسائی حاصل کرنے کے حوالے سے بی آئی ایس پی ڈبلیو ایف پی کا اہم ترین شراکت دار بن سکتا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ بی آئی ایس پی سماجی تحفظاتی خدمات کی فراہمی میں غربت پر مبنی نشاندہی کیلئے ایک جدید نظام قائم کرنے میں کامیابی حاصل کرچکا ہے۔ اس نے مستحق گھرانوں کے انتخاب کیلئے قومی سماجی واقتصادی رجسٹری قائم کی جس نے مردم شماری کے تحت مستحقین کے ایک بڑے ڈیٹا کو کمپیوٹرائزڈ سوک رجسٹری کیساتھ منسلک کیا۔

مزید برآں، یہ بھی بتایا گیا کہ بی آئی ایس پی نے غریب خواتین کی زندگیوں میں مثبت اثرات مرتب کرنے کے حوالے سے بڑی کامیابی حاصل کی ہے جس سے بی آئی ایس پی کو قومی و بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل ہوئی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ پائیدار ترقیاتی اہداف اور وژن پاکستان ایجنڈا 2025ء کے مد نظر رکھتے ہوئے، بی آئی ایس پی، بھوک کے خاتمے اور انسانی ترقی میں بہتری کے ذریعے غریب ترین افراد کی معیار زندگی کو بہتر کرنے کیلئے پُرعزم ہے۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر ورلڈ فوڈ پروگرام کو آگاہ کیا گیا کہ بی آئی ایس یی نے حال ہی میں بی آئی ایس پی انڈوومنٹ فنڈ کا اجراء کیا ہے۔بی ای ایف کا اہم مقصد فنڈ بورڈ سے منظور کی گئی غریب نواز زسکیموں/اقدامات کیلئے اضافی فنڈز کی فراہمی کیساتھ ساتھ بی آئی ایس پی کی آپریشنل کاسٹ کو کور کرنا ہے۔بی آئی ایس پی ڈبلیو ایف کی جانب سے ایک قابل قدر گرانٹ کا خیر مقدم کرے گا۔

حکومت پاکستان نے غریب ترین افراد کو غربت سے باہر نکالنے کیلئے ایک حکمت عملی تشکیل دی ہے۔ اس حوالے سے ، بی آئی ایس پی نے حال ہی میں گریجویشن ماڈل کا بھی افتتاح کیا ہے۔ معروف بین الاقوامی اداروں ، ایم آئی ٹی، ہاروڈ اور ایل ایس ای سے مشاورت کے بعد ان گریجویشن ماڈلز کو اپنایا جا چکا ہے۔ سیکرٹری بی آئی ایس پی عمر حمید خان نے ڈیوڈ بیسلے کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ ان کا یہ دورہ ڈبلیو ایف پی اور بی آئی ایس پی کے مابین تعاون کو وسعت فراہم کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ تعاون معاشرے کے پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد پر براہ راست اثرانداز ہوگا۔ سیکرٹری بی آئی ایس پی نے ڈیوڈ بیسلے پر زور دیا کہ وہ بی آئی ایس پی کے مقاصد کے حصول کیلئے عالمی برادری پر اپنا اثرو رسوخ استعمال کریں اور پروگرام کی بہتری کیلئے ڈیجیٹل سلوشنز تشکیل دینے کیلئے پرائیویٹ سیکٹر سے کام لیں۔ مہمان خصوصی کو ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جس میں بطور سماجی تحفظ پروگرام بی آئی ایس پی کی کامیابیاں شامل تھیں۔ اس کے بات بی آئی ایس پی اور ڈبلیو ایف پی کے مابین ممکنہ اشتراک کے حوالے سے سیشن بھی ہوا۔ بی آئی ایس پی کی جانب سے ڈیوڈ بیسلے کو یادگار کے طور پر شیلڈ بھی پیش کی گئی۔

متعلقہ عنوان :

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments