وزیراعظم ہاؤس سے اڈیالہ جیل تک سابق وزیر اعظم کا سفر

نواز شریف کی زندگی کے ڈرامائی موڑ پر ایک مکمل رپورٹ

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس جمعہ 13 جولائی 2018 23:57

وزیراعظم ہاؤس سے اڈیالہ جیل تک سابق وزیر اعظم کا سفر
اسلام آباد (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-13جولائی 2018ء) وزیراعظم ہاؤس سے اڈیالہ جیل تک سابق وزیر اعظم کا سفر، نواز شریف کی زندگی کے ڈرامائی موڑ پر ایک مکمل رپورٹ آپ کے مطالعے کے لیے حاضر ہے۔ تفصیلات کے مطابق پانامہ پیپرز کے سامنے آنے کے بعد پاکستانی سیاست میں ایک بھونچال آگیا اور اس معاملے کو 2016 میں سپریم کورٹ میں لایا گیا جہاں پر یہ کیس چلتا رہا اور فروری 2017 میں اس کیس کا فیصلہ محفوظ کیا گیا۔

جو بعد ازاں 20 اپریل کو سنایا گیا جس کے نتیجے میں 2-3 کا فیصلے سامنے آیا اور کیس کے فیصلے کے نتیجے میں جے آئی ٹی بنا دی گئی جس کے نتیجے میں مسلم لیگ ن اور شریف خاندان نے بغلیں بجائیں اور اس فیصلے کو اپنی فتح قرار دیا اور مٹھائیاں تقسیم کیں اور اسی جے آئی ٹی میں جب پے در پے پیشیاں بھگتنا پڑیں تو مسلم لیگ ن نے اس ملک اورجمہوریت کے خلاف سازش قرار دے دیا۔

(جاری ہے)

مسلم لیگ ن کے وزراء جے آئی ٹی کے سامنے شریف خاندان کی پیشیوں کے موقع پر لمبی چوڑی تقریریں کرتے ۔جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی تو اس کے بعد 28 جولائی کو 0-5 کا فیصلہ آیا جس میں نواز شریف کو وزارت اعظمیٰ سے نااہل کردیا گیا اور اس رپورٹ کی روشنی میں احتساب عدالت میں ریفرنس بھیجے گئے جن میں سے ایک ریفرنس ایون فیلڈ ریفرنس تھا جو نواز شریف کے لندن میں موجود اپارٹمنٹس سے متعلق تھا۔

احتساب عدالت نے عدم حاضری کی بنا پر حسن اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے انہیں ریفرنس سے الگ کیا۔19 اکتوبر 2017 کو مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر براہ راست جب کہ نواز شریف پر ان کے نمائندے ظافر خان کے ذریعے فردِ جرم عائد کی گئی۔ نیب نے مزید شواہد ملنے پر 22 جنوری 2018 کو اسی معاملے میں ضمنی ریفرنس دائر کیا۔ایک موقع پر مسلسل غیر حاضری پر عدالت نے 26 اکتوبر کو نوازشریف کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جس کے ایک ماہ بعد یعنی 26 ستمبر کو نواز شریف پہلی بار احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے جب کہ ان کی صاحبزادی مریم نواز 9 اکتوبر کو پہلی مرتبہ عدالت میں پیش ہوئیں۔

احتساب عدالت نے نواز شریف کے داماد کے ناقابل ضمانت وارنٹ بھی گرفتاری جاری کیے اور کیپٹن(ر)صفدر کو ایئرپورٹ سے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے 26اکتوبر کو مسلسل عدم حاضری کی بنا پر نواز شریف کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔3 نومبر کو پہلی بار نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن صفدر اکٹھے عدالت میں پیش ہوئے۔8 نومبر کو پیشی کے موقع پر نواز شریف پر براہ راست فرد جرم عائد کی گئی۔

10 جون کو چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نےاحتساب عدالت کی جانب سے شریف خاندان کے خلاف ٹرائل مکمل کرنے کی مدت سماعت میں تیسری مرتبہ توسیع کی درخواست پرسماعت کی۔ سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو سابق وزیراعظم نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر)محمد صفدر کے خلاف زیرسماعت تینوں ریفرنسز کا ایک ماہ میں فیصلہ سنانے کا حکم دیا۔

11 جون 2018 کو حتمی دلائل کی تاریخ سے ایک دن پہلے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کیس سے الگ ہو گئے جس کے بعد ایڈووکیٹ جہانگیر جدون نے وکالت نامہ جمع کرایا۔ 19 جون کو خواجہ حارث احتساب عدالت پہنچے اور دستبرداری کی درخواست واپس لے لی۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے 9ماہ 20دن تک ریفرنس کی سماعت کی اور 3جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا۔ اس دوران مجموعی طور پر 18گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے جن میں پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا بھی شامل تھے۔

اس کا فیصلہ 6 جولائی کو سنایا گیا جس کے مطابق احتساب عدالت نے نوازشریف کی تمام جائیداد ضبط کرنے اورایون فیلڈ اپارٹمنٹس کی قرقی کاحکم دے دیا ہے،احتساب عدالت نے نوازشریف کو10سال قید کی سزا،8ملین پاؤنڈ جرمانہ ، مریم نواز کو7سال قید،2ملین پاؤنڈ کا جرمانہ اور کیپٹن ر صفدر کوایک سال قید کی سزا بھی سنادی ہے،تینوں ملزمان کوان کی عدم موجودگی میں قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

جس کے بعد 13 جولائی کو نواز شریف نے وطن واپسی کا اعلان کیا۔نواز شریف گزشتہ شب ہیتھرو ائیرپورٹ سے اتحاد ائیر ویز کے متحدہ عرب امارات کے لئیے روانہ ہوئے۔جہاں سے وہ اتحاد ائیرویز کی ایک اور پرواز کے ذریعے لاہور پہنچے۔ اس موقع پر مسلم لیگ ن کے کارکنان جہاز میں 100 کی تعداد میں موجود تھے جنہوں نے اس موقع پر نواز شریف کی گرفتاری میں مزاحمت کرنا شروع کردی۔

جس کے بعدپولیس اور رینجرز کے اہلکار جہاز میں داخل ہو ئے جبکہ نیب کی ٹیم بھی وارنٹ گرفتاری لے کر جہاز میں پہنچ گئی ہے۔اس موقع پر لیڈی پولیس اہلکار بھئ موقع پر موجود تھیں۔رینجرز اہلکار نے باقی مسافروں کو جہاز سے اترنے کی ہدایت کی۔بالآخر نواز شریف کو جہاز سے اتار لیا گیا ہے۔امیگریشن ٹیم نے نوازشریف اور مریم نواز کے پاسپورٹ بھی قبضے میں لے لئیے۔

بعد ازاں انہیں گرفتار کر کے نیب کے خصوصی طیارے کے ذریعے انہیں اسلام آباد منتقل کیا گیا۔نواز شریف اور مریم کے اسلام آباد پہنچنے سے پہلے قانونی تقاضے پورے کر لئیے ،نوازشریف اور مریم نواز کو جیل بھیجنے کے احکامات جاری کردیےگئے۔
۔ایک مجسٹریٹ کو یہ ذمہ داری تفویض کردی ہے کہ وہ اڈیالہ جیل پہنچ کر عدالتی احکامات پر عمل کروائے۔دوسری جانب نوازشریف کولانےوالاخصوصی طیارہ نیو اسلام آباد ایئرپورٹ پر اترگیا۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سابق وزیر اعظم کو اڈیالہ جیل پہنچا دیا گیا ہےجہاں انہیں بی کلاس جیل میں رکھا جائے گا۔

اسلام آباد میں شائع ہونے والی مزید خبریں