اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںاحتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی جانب سے شریف خاندان کیخلاف ریفرنسز ..

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی جانب سے شریف خاندان کیخلاف ریفرنسز کی سماعت سے انکار کا معاملہ کچھ اور ہی نکلا

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے فلیگ شپ اور العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنسز کی سماعت سے انکار نہیں کیا بلکہ عدالت سے اس معاملے پر معاونت طلب کی ہے: صحافی ارشد شریف

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 جولائی2018ء) احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی جانب سے شریف خاندان کیخلاف ریفرنسز کی سماعت سے انکار کا معاملہ کچھ اور ہی نکلا، صحافی ارشد شریف کے مطابق احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے فلیگ شپ اور العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنسز کی سماعت سے انکار نہیں کیا بلکہ عدالت سے اس معاملے پر معاونت طلب کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق شریف خاندان کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کے
فیصلے کے بعد دیگر نیب کیسز نے اچانک نیا موڑ اختیار کر لیا
ہے۔ ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے والے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی
جانب سے شریف خاندان کیخلاف فلیگ شپ اور العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس کی
سماعت سے انکار کردیا گیا ہے۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے موقف اختیار
کیا ہے کہ چونکہ ملزمان کے وکیل کو ان کے کیس سننے پر اعتراض ہے، اس لیے
وہ شریف خاندان کیخلاف دیگر کیسز کی سماعت نہیں کر سکتے۔

(خبر جاری ہے)

احتساب عدالت کے
جج محمد بشیر نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے فلیگ شپ اور العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس کی
سماعت کی ذمہ داری کسی دوسرے جج کو سونپنے کی درخواست کی ہے۔ تاہم اس حوالے سے معروف صحافی ارشد شریف کی جانب سے وضاحتی ردعمل دیا گیا ہے۔ ارشد شریف کا کہنا ہے کہ فی الحال جج محمد بشیر نے کیسز کی سماعت کرنے سے انکار نہیں کیا، بلکہ اعلی عدالت کو لکھے گئے خط میں موقف اختیار کیا ہے کہ چونکہ شریف خاندان کے وکیل کو ان پر اعتراضات ہیں، اس لیے کیسز کی سماعت کسی دوسری عدالت میں منتقل کر دیے جائیں۔

اس حوالے سے حتمی فیصلہ اعلی عدالت ہی کرے گی۔ دوسری جانب معروف قانون دان اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ احتساب عدالت کے یہ کیسز کسی دوسری عدالت منتقل کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ اس حوالے سے حتمی فیصلہ سپریم کورٹ کو ہی کرنا ہوگا۔ اس سے قبل پیر
کے روز مسلم لیگ(ن) کے
قائد محمد نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسزکی
سماعت دوسری عدالت میں منتقل کرنے کیلئے درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں
دائر کردی۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا پانے والے سابق وزیراعظم میاں
نوازشریف کی جانب سے احتساب عدالت میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں
اس عدالت کے جج محمد بشیر کی جانب سے فلیگ شپ اور العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس
کی سماعت پر اعتراض اٹھایا گیا تھا۔ نوازشریف نے درخواست میں دونوں
ریفرنسز
کی سماعت دوسری عدالت میں منتقل کرنے کی استدعا کی تھی جسے مسترد کر دیا
گیا تھا۔

اب خواجہ حارث کے توسط سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا
ہے کہ
جے آئی ٹی رپورٹ اور گلف اسٹیل ملز سے متعلق عدالت اپنا فیصلہ سنا چکی ہے ،
جبکہ دیگر 2 ریفرنسز میں بھی یہ چیزیں مشترکہ ہیں۔ احتساب عدالت کے جج ایون

فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کا فیصلہ سنا چکے ہیں اس لئے قانون کا تقاضہ ہے کہ
دیگر ریفرنسز کسی اور عدالت کو منتقل کئے جائیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں