شریف برادران کی اڈیالہ جیل میں ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

نواز شریف نے شہباز شریف سے سیدھے منہ بات نہیں کی،نواز شریف نے شہباز شریف کی سخت بے عزتی کرتے ہوئے کہا کہ تم نے سودا کردیا ہے ، مجھے بیچ دیا ہے، معروف صحافی چوہدری غلام حسین کا انکشاف

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل جولائی 12:07

شریف برادران کی اڈیالہ جیل میں ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے ..
اسلام آباد (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔17 جولائی 2018ء) نوازشریف اور شہبازشریف کی اڈیالہ جیل میں ملاقات کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو احتساب عدالت کی طرف سے سزا کے بعد لندن سے وطن واپسی پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔جس کے بعد نواز شریف کے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف اپنی والدہ کے ہمراہ نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کر نے کے لیے گئے تھے اس متعلق گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی چوہدری غلام حسین کا کہنا تھا کہ شہباز شریف جب نواز شریف سے ملنے اڈیالہ جیل گئے تو نواز شریف نے شہباز شریف کی بہت بے عزتی کی۔

چوہدری غلام حسین کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے شہباز شریف کی سخت بے عزتی کرتے ہوئے کہا کہ تم نے سودا کردیا ہے ، مجھے بیچ دیا ہے۔

(جاری ہے)

میں یہاں ساری رات دری پر سویا ہوں۔اور کہاں گئے تھے تمھارے وہ بندے جنھوں نے ائیرپورٹ تک آنا تھا؟۔شہباز شریف نے کہا کہ ہمارے سب بندوں کو پولیس نے پکڑ لیا تھا تو نواز شریف نے کہا کہ بندے تو لاہور سے باہر والے علاقوں میں پکڑے تھے۔

تم تو لاہور میں جلوس لے کر نکلے تھے۔اب ہر حال میں ہماری ضمانتیں کرواؤ۔چوہدری غلام حسین کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف نے شہباز شریف سے سیدھے منہ بات تک نہیں کی۔یاد رہے میڈیا پر یہ خبریں آئیں تھیں کہ شہباز شریف ریلی کو لاہور ائیرپورٹ پر نہیں پہنچا سکے تھے اس وجہ سے نواز شریف اور مریم نواز سخت برہم ہوئے تھے۔نواز شریف کی لاہور ائیر پورٹ آمد پر ن لیگی رہنماؤں اور کارکنان نے پارٹی قائد کا استقبال کرنا تھا لیکن کوئی ائیر پورٹ نہ پہنچ سکا۔

شہباز شریف کی قیادت میں نکلی ریلی بھی جوڑا پُل تک پہچنی اور وہیں سے واپس چلی گئی جس پر سیاسی حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں ہونا شروع ہو گئیں کہ شہباز شریف نے اپنے بھائی نواز شریف دھوکہ دیا ہے اور وہ جان بوجھ کر کارکنان کو ائیر پورٹ نہیں لے کر گئے ۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments