اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںایفی ڈرین کیس، سپریم کورٹ نے حنیف عباسی کی 21 جولائی کو فیصلہ سنانے کیخلاف ..

ایفی ڈرین کیس، سپریم کورٹ نے حنیف عباسی کی 21 جولائی کو فیصلہ سنانے کیخلاف درخواست مستردکر دی ،ْ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار

اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 جولائی2018ء) سپریم کورٹ نے ایفی ڈرین کیس کا فیصلہ 21 جولائی کو سنانے کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کیخلاف حنیف عباسی کی درخواست مسترد کردی۔تفصیلات کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ نے انسداد منشیات کی عدالت کو مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کیخلاف ایفی ڈرین کیس کا فیصلہ 21 جولائی کو سنانے کا حکم دے رکھا ہے۔

منگل کو حنیف عباسی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جس میں ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی۔حنیف عباسی کے وکیل کامران مرتضیٰ نے سپریم کورٹ میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حنیف عباسی کیخلاف ایفی ڈرین کیس 2 اگست کیلئے مقرر تھا، عدالت نے درخواست گزار شاہد اورکزئی کی درخواست پر کیس 16 جولائی کیلئے مقرر کردیا۔

(خبر جاری ہے)

حنیف عباسی کے وکیل نے کہا کہ ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار نہیں بنتا کہ کیس کو طے شدہ تاریخ سے پہلے سنے۔اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آئین کے آرٹیکل 203 کے تحت ہائیکورٹ کا اختیار بنتا ہے، جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ آپ نے عدالتی فیصلے میں رضامندی ظاہر کی ہے۔کامران مرتضیٰ نے مؤقف اپنایا کہ میں بیان حلفی دینے کو تیار ہوں،کوئی رضامندی ظاہرنہیں کی، سپریم کورٹ نے درخواست گزار شاہد اورکزئی پر پابندی عائد کررکھی ہے۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیئے کہ اگرپابندی لگائی ہے تو اس کایہ مطلب نہیں کہ شہری کاحق بھی نہیں رہا۔عدالت نے کامران مرتضیٰ کے دلائل سننے کے بعد حنیف عباسی کی استدعا مسترد کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں