اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںعمران خان اور پرویز خٹک کو الیکشن تک لہجہ نرم رکھنے کی ہدایت پارٹی ..

عمران خان اور پرویز خٹک کو الیکشن تک لہجہ نرم رکھنے کی ہدایت

پارٹی سخت الفاظ کا دفاع کرنے میں ناکام ، الیکشن میں نقصان ہو سکتا ہے

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 17 جولائی 2018ء): الیکشن نزدیک آتے ہی سیاسی رہنماؤں کے جوش خطابت میں کہے گئے نازیبا الفاظ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، کوئی کسی کو بے غیرت کہہ رہا ہے تو کوئی کسی کو گدھا کہہ کر پُکار رہا ہے۔ ایسے میں پارٹی سربراہوں اور رہنماؤں کے منہ سے نکلنے والے الفاظ کا انتخابات پر منفی اثر پڑ سکتا ہے اور اسی بات کے پیش نظر پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان اور پرویز خٹک کو الیکشن تک نرم لہجہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے تھنک ٹینک نے انتخابات تک قیادت کو لہجے میں نرمی لانے جبکہ صوبائی ڈویژنل سطح پر اس پر عملدرآمد یقینی بنانے کی تجویز دے دی ہے۔ عمران خان اور پرویز خٹک نے گذشتہ ہفتے حریف جماعتوں کے کارکنان کے بارے میں نازیبا زبان کا استعمال کیا اور ان نازیبا الفاظ کے باعث پارٹی دفاعی پوزیشن جبکہ اندرونی طور پر بھی مسائل کا شکار ہو گئی۔

(خبر جاری ہے)

میڈیا پر آنے والے رہنما مذکورہ الفاظ کا دفاع کرنے میں ناکام جبکہ مخالفین کو ان بیانات پر پراپیگنڈنے کا موقع مل رہا ہے۔ تھنک ٹینک کے مطابق قیادت کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے فیصلے اور رویے پر نظر ثانی کرے اور پارٹی کے مؤثر افراد کے اس مشورے پر غور بھی کرے۔ عمران خان نے لیگی کارکنان کو گدھا کہا تو پرویز خٹک نے اپنے لیڈر کی پیروی کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے جھنڈے والے گھروں کو ''طوائف کے گھر'' قرار دیا تھا۔

ان الفاظ کے خلاف ملک بھر میں سیاسی مخالفین اور عام شہریوں میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں اور مرکزی میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی پی ٹی آئی کی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیا جا رہا ہے۔ لہٰذا قیادت کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے تمام الفاظ کی ادائیگی سے اجتناب کریں کیونکہ ایسے الفاظ کی ادائیگی سے پارٹی کو الیکشن میں نقصان اُٹھانا پڑ سکتا ہے۔ پارٹی کو پراپیگنڈے کا شکار ہونے سے بچانے کے لیے پارٹی قیادت کو کم ازکم الیکشن تک اپنے لہجے اور الفاظ میں نرمی پیدا کرنا ہو گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں