نواز شریف نے جیل میں گالیاں دینا اور سب کو بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا

نواز شریف کا کہنا ہے کہ اگر میں اسی حالت میں یہاں رہا تو مجھے کچھ ہو جائے گا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات جولائی 11:13

نواز شریف نے جیل میں گالیاں دینا اور سب کو بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 19 جولائی 2018ء) : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی چوہدری غلام حسین نے کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز کا جیل میں قید ہوئے ابھی ایک ہفتی ہی ہوا ہے کہ انہوں نےجیل میں بانگیں دینا شروع کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے نواز شریف کہتے تھے کہ میں کسی سے نہیں ڈرتا میں جیل جانے کے لیے آگیا ہوں، مجھے پھانسی سے بھی ڈر نہیں لگتا، لیکن اب انہوں نے جیل سر پر اُٹھا لیا ہے اور یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ مجھے یہاں سے نکالو، اگر میں یہاں رہ گیا تو یہاں سے میری لاش ہی جائے گی۔

میری موت کےذمہ دار یہی ہوں گے۔ نواز شریف نے کہا کہ مجھے بہت تھکن محسوس ہو رہی ہے، میری چھاتی پر مجھے بوجھ محسوس ہو رہا ہے، خدا کے واسطے ڈاکٹرز کو بلاؤ ڈاکٹرز آ کر دیکھیں کہ میرا ہارٹ فیل ہونے والا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اگر میں انہی حالات میں یہاں رہا تو مجھے کچھ ہو جائے گا۔جب ڈاکٹرز کو بلایا گیا تو انہوں نے نواز شریف کا معائنہ کیا اور ان سے کہا کہ آپ بالکل ٹھیک ہیں،آپ کو کچھ نہیں ہونے والا۔

چوہدری غلام حسین نے کہا کہ نواز شریف جیل میں کبھی رونا شروع کر دیتے ہیں اور کبھی گالیاں دینا شروع کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان سب کو دیکھ لیں گے، ان سب سے نمٹ لیں گے۔ صحافی نے بتایا کی ان کے کچھ وکلا سے ان کی ملاقات بھی ہو گی جبکہ کچھ نے ان کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اب یہ لوگ میڈیکل گراؤنڈز پر جیل سے چھُٹکارا حاصل کرنا چاہ رہے ہیں۔

جو ستر،ستر سال جیل میں رہنے کے دعوے کر رہے تھے وہ ساتھ دن نہیں رہ پا رہے۔ مسلم لیگ ن منصوبہ بندی کر رہی ہے اور وکلا کو ہدایت کی جائےگی کہ وہ کوئی ایسا کیس بنائیں جس میں کہا جائے کہ نواز شریف کو میڈیکل بنیادوں پر ، دل کے عارضہ میں مبتلا ہونے کی بنیاد پر فی الفور جیل سے نکالا جائے۔ ان کو جیل میں تمام سہولیات دی جا رہی ہیں، جو کھانا چاہتے ہیں ، جو پینا چاہ رہے ہیں۔

چہل قدمی کرنا چاہ رہے ہیں، بیٹی سے بات کرنا چاہ رہے ہیں وہ سب کچھ کر رہے ہیں لیکن جاتی امرا کے محل میں اور ایون فیلڈ اپارٹمنٹس جیس سہولیات تو جیل میں میسرنہیں ہیں ، جس کی وجہ سے ان کا دم گھُٹ رہا ہے اور انہوں نے شور کرنا شروع کردیا ہے۔یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز کو وطن واپسی پر 13 جولائی کی شب اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا تھا۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments