اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںسینیٹ اجلاس ،ْ ارکان پارلیمنٹ کا انتخابات کی شفافیت پر شدید تحفظات ..

سینیٹ اجلاس ،ْ ارکان پارلیمنٹ کا انتخابات کی شفافیت پر شدید تحفظات کا اظہار ،ْ

الیکشن کمیشن اور نگراں حکومت پر کڑی تنقید , نگران وزیر اعلیٰ پنجاب حسن عسکری مستعفی ہو جائیں ،ْ (ن)لیگ کے کارکنوں کو گرفتار کیاجارہا ہے ،ْ الیکشن شفاف کیسے ہونگے ،ْ فوجی جوانوں کو پولنگ اسٹیشن کے اندر کیوں تعینات کیا جارہا ہے، اگر انتخابات میں دھاندلی ہوئی تو سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے ،ْرضا ربانی ،ْ پرویز رشید , حالات بہتر نظر نہیں آ رہے ،ْ انتخابات اور ملک دو راہے پر کھڑے ہیں، آپ مسلح تنظیموں کو مین اسٹریم میں لاکر پاکستان میں تفریق پیدا کر رہے ہیں ،ْشیری رحمن

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جولائی2018ء)سینیٹ اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ نے انتخابات کی شفافیت پر شدید تحفظات کا اظہار ،ْ الیکشن کمیشن اور نگراں حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب حسن عسکری مستعفی ہو جائیں ،ْ (ن)لیگ کے کارکنوں کو گرفتار کیاجارہا ہے ،ْ الیکشن شفاف کیسے ہونگے ،ْ فوجی جوانوں کو پولنگ اسٹیشن کے اندر کیوں تعینات کیا جارہا ہے، اگر انتخابات میں دھاندلی ہوئی تو سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

ہفتہ کو سینٹ کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے سینیٹرز الیکشن کمیشن اور نگراں حکومت پر برس پڑے ۔ سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے رہنما رضا ربانی نے کہا کہ نگران حکومت مکمل طور پر آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہے ،ْ ہارون بلور شہید ہوئے اور مستونگ میں تاریخ کا ہولناک واقع پیش آیا، شیخ آفتاب کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی ،ْاکرم درانی کے جلسے پر حملہ ہوا ،ْشاہد خاقان عباسی کے قافلے پرحملہ ہوا، بلاول بھٹو کو بھی جنوبی پنجاب میں ریلی نکالنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

(خبر جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ واضح ہے کہ نگران حکومت مکمل طور پر جانبداری کا مظاہرہ کررہی ہے ،ْ افسوس ناک بات ہے الیکشن کمیشن نے ایکشن نہیں لیا، الیکشن کمیشن آئین کے تحت ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے اور جو کچھ ہو رہا ہے الیکشن کمیشن خاموش تماشائی بنا ہے۔سابق چیئرمین سینیٹ نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے بتایا کہ کیسے امیدواروں اور ووٹرز پر دباؤ ڈالا جارہا ہے لیکن الیکشن کمیشن نے کوئی ایکشن نہیں لیا اور نہ دکھاوے کے لیے بات کی۔

سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ میں سوالات اٹھا رہا ہوں اور چاہتا ہوں کہ الیکشن کمیشن اس کا جواب دے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ حقیقت ہے کہ الیکشن کمیشن نے بینک ملازمین کو پولنگ اسٹاف میں شامل کیا ہی اگر یہ درست ہے تو کیا الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی اگر بینک ملازمین کو انتخابی عمل میں شامل کیا ہے تو اس کے انتخاب کی کیا بنیاد ہی رضا ربانی نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن نے کالعدم تنظمیوں سے تعلق رکھنے والوں کی تفصیلات لیں اس وقت 250 قومی اسمبلی کے امیدوار کالعدم تنظیموں سے ہیں، جن کالعدم تنظیموں کے امیدواروں پر کیسز ہیں، کیا ان کا ریکارڈ ای سی پی نے منگوایا تھا الیکشن کمیشن جواب دے کہ ریکارڈ کیوں نہیں منگوایا گیا قانون اور آئین کی کس شق کے تحت کالعدم تنظیموں کے امیدواروں کو اجازت دی سابق چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اس کا جواب دہ ہونا ہے، حیرانی ہوئی کہ نگران وزیرداخلہ پنجاب نے کچھ کالعدم تنظیموں کے ممبران کے ساتھ میٹنگ کی، نام فورتھ شیڈول سے نکالنیک ی یقین دہانی کرائی۔

پی پی رہنما نے کہا کہ ہم کون سے صاف شفاف الیکشن کی طرف جا رہے ہیں سیاسی ایجنڈا چلانے کیلئے احتساب کے ادارے استعمال ہورہے ہیں اور دو بڑی سیاسی جماعتوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، اس سے صاف شفاف الیکشن کی فضا کہاں جارہی ہی الیکشن کمیشن خاموش ہے اور یہ خاموشی مجرمانہ ہے ،ْ کیا الیکشن کمیشن کو یہ نظر نہیں آرہا ہے کہ نیب کواستعمال کیا جا رہا ہی رضا ربانی نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے آرمی کوطلب کیا ہے اس کے ٹی او آرز واضح طور پر سامنے آنے چاہئیں ،ْالیکشن کمیشن نے آرمی کی طلبی کے حوالے سے مبہم بات کی ہے، کل الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ 2 فوجی پولنگ اسٹیشن کے اندر اور 2 باہر ہوں گے، پہلے کہا تھا کہ فوجی صرف پولنگ اسٹیشن کے باہر تعینات ہوں گے، کیا وجوہات ہیں کہ فوجی اندر پولنگ اسٹیشن کے اندر بھی تعینات کیے گئی رضا ربانی نے سوال کیا کہ پولنگ اسٹیشنز کے اندر فوجی اہلکاروں کا کیا کردار ہو گا کیا الیکشن کمیشن نے فوجی اہلکاروں کو مجسٹریٹ کے اختیارات دیئے یا نہیں کس رینک کے افسران کو مجسٹریٹ کے اختیارات دیئے گئی یہ قانون کے مطابق نہیں کہ فوجیوں کومجسٹریٹ کے اختیارات دیئے جائیں، فوجی اہلکاروں کو مجسٹریٹ کے اختیارات دینے سے صرف مسائل بڑھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا فری شفاف انتخابات کا اہم جزوہے، اسے دبا کرآئین کی خلاف ورزی کررہے ہیں بلکہ الیکشن عمل کو متنازع بنا رہے ہیں، اگر انجینیرڈ الیکشن ہوئے تو وفاق پر اس کے سنگین اثرات پڑیں گے۔اپوزیشن لیڈر شیری رحمان نے کہا کہ حالات بہتر نظر نہیں آ رہے ،ْ انتخابات اور ملک دو راہے پر کھڑے ہیں، آپ مسلح تنظیموں کو مین اسٹریم میں لاکر پاکستان میں تفریق پیدا کر رہے ہیں ،ْ جب وہ لوگ ایوان میں آگئے تو یہاں کیا بحث ہوا کرے گی کالعدم تنظیمیں ایوان میں آگئیں تو وہ لوگ مین اسٹریم میں آجائیں گے، اگر وہ لوگ یہاں آگئے تو پھر یہاں کس کو سانس لینے کی اجازت ہوگی نگراں صوبائی وزیر داخلہ پنجاب کو فوری استعفیٰ دے دینا چاہئے۔

سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ الیکشن کی ساکھ پاکستان کی ساکھ کے لیے بہت اہم ہے، ملک اور الیکشن ایک دوراہے پرآکر کھڑے ہوگئے ہیں، ہمارے امیدوار شوکت بسرا آخری لمحات میں آزادحیثیت سے کھڑے ہوگئے۔انہوں نے کہاکہ مسلح تنظیمیں جب مرکزی دھارے میں ہوں گی تو اس کے خلاف پورے سینیٹ کا مشترکہ مؤقف ہے، آج پاکستان میں مصنوعی تفریق بنائی جارہی ہے۔

شیری رحمان نے کہاکہ ہم نیشنل ایکشن پلان کا کیسے دفاع کریں گے اگر کالعدم تنظیموں کے پانچ نمائندے بھی اس ایوان میں بیٹھ گئی ہم کس کو مرکزی دھارے میں شامل کرنا چاہ رہے ہیں آئین اور دین انتہا پسندی کی اجازت نہیں دیتا، جمہوری قوتیں انتہا پسندوں کو الیکشن میں جتواکرایوان میں نہیں لاتیں۔ن لیگ کے سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ نگران حکومت جواب دے کسی کے ساتھ لاڈلے اور کسی کے ساتھ سوتیلوں والا سلوک کیا جارہا ہے، کل ہی احتساب عدالت نے عمران خان کو ہیلی کاپٹر کیس میں استثنیٰ دیا، اگر لاڈلے کو استثنیٰ مل سکتا تو حنیف عباسی کو کیوں نہیں مل سکتا، نگراں وزیراعلیٰ پنجاب نے بھارتی اخبار میں پیش گوئی کی کہ پنجاب میں تحریک انصاف کی نشستیں بڑھ جائیں گی، حسن عسکری کی اس پر استعفیٰ دینا چاہئے۔

راجہ ظفرالحق نے کہا کہ نگراں حکومت الیکشن میں فریق ہے جو خاص نتیجہ حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے، نگراں حکومت میں عقل کی خاصی کمی ہے، وہ نوازشریف کی آمد پر تشدد کے واقعات میں کیوں ملوث ہوئی اس الیکشن میں عوامی رائے کا اظہار نہیں ہورہا اور الیکشن کمیشن کے پاس قطعا کوئی اختیارات نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں