عمران خان سے ملاقات کیوں کی ؟

بھارتی میڈیا عمران خان سے ملاقات کرنے پر اپنے ہی سفیر پر برس پڑا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ اگست 11:38

عمران خان سے ملاقات کیوں کی ؟
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 11 اگست 2018ء) : بھارتی میڈیا نے پاکستان دشمنی میں اپنے سفیر کو بھی نہ بخشا۔ بھارتی میڈیا پاکستان کے متوقع وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کرنے پر پاکستان میں تعینات اپنے ہی ہائی کمشنراجے بساریہ اورڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ پر برس پڑا۔ بھارتی میڈیا نے عمران خان سے ملاقات میں بھارتی کھلاڑیوں کے دستخط والا بلا عمران خان کو دینے پر بھی ان پر کڑی تنقید کی۔

بھارتی میڈیا نے الزام عائد کیا کہ پاکستان بھارت میں دہشت گردی کروارہا ہے اورسرحد پرہمارے فوجی جوانوں کو گولیوں سے بھون رہا ہے جبکہ ہمارے ہائی کمشنر پاکستان کے متوقع وزیراعظم عمران خان کو ان کی رہائش گاہ پر جا کر ''بلا'' تحفے میں دے رہے ہیں۔بھارتی میڈیا نےکہا کہ کیا ہائی کمشنر کو ہمارے شہدا یاد نہیں آئے ؟ بھارتی میڈیا نے اپنے ہی ہائی کشمنر اور ڈپٹی ہائی کمشنر کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ پاکستان کے متوقع وزیراعظم عمران خان کی کابینہ میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو بہت انتہا پسند ہیں جن میں شاہ محمود قریشی جو ممکنہ طور پر وزیر خارجہ جبکہ شیری مزاری جو ممکنہ طورپر وزیر دفاع ہوں گی جنہوں نے ایک نہیں متعدد بار بھارت پر کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور دہشت گردی کروانے کا الزام عائد کیا ہے ۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے سابق بھارتی عہدیدار میجرجنرل بخشی نے کہا کہ بھارت کو پٹھان کوٹ، اوڑی اوراپنے ملک میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں پاکستان کے ملوث ہونے کے شواہد کو نہیں بھولنا چاہئیے کیونکہ پاکستان نے بھارت میں دہشتگردی میں ملوث ہونے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جس کی وجہ سے بھارت کو کئی زخم کھانے پڑے۔ یہی نہیں بلکہ اس موقع پر بھارتی میڈیا نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور پاکستان کے متوقع وزیراعظم عمران خان پربھی الزام عائد کیا کہ انہوں نے اپنی پہلی تقریر میں جہاں مذاکرات کی بات کی وہیں پر کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور دہشت گردی کا تذکرہ بھی کیا۔

بھارتی میڈیا کی پاکستان کے خلاف اس نوعیت کی ہرزہ سرائی پر سوشل میڈیا صارفین نے بھی سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور کہاہے کہ بھارتی میڈیا کی ایسی رپورٹ اور بے بنیاد الزامات دیکھ کر صاف ظاہر ہے کہ بھارتی میڈیا پاک بھارت تعلقات ٹھیک کرنے کا خواہاں نہیں ہے ، کیونکہ جہاں عمران خان نے بھارت کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور مذاکرات کی دعوت دے کر پاک بھارت تعلقات ٹھیک کرنے کی پہل کی وہاں بھارتی میڈیا پاکستان کے خلاف ہزرہ سرائی کر کے عمران خان پر بھی بے بنیاد الزامات عائد کر دیا ہے جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بگاڑ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ان کی رہائش گاہ بنی گالہ میں بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ نے ملاقات کی۔ ملاقات میں بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنرجے پی سنگھ بھی موجود تھے۔اس موقع پربھارتی ہائی کمشنر نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کوانتخابات میں کامیابی پرمبارکباد کا پیغام پہنچایا۔ ملاقات میں شیریں مزاری، شاہ محمود قریشی اور فواد چودھری بھی موجود تھے۔

ملاقات میں بھارتی ہائی کمشنر نےپاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کوانتخابات میں کامیابی پر مبارکباد کا پیغام پہنچایا۔بھارتی ہائی کمشنر نے عمران خان کوبھارتی کرکٹ ٹیم کے دستخط شدہ بلے کا تحفہ بھی دیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور بھارتی ہائی کمشنر کے درمیان ملاقات میں پاک بھارت تعلقات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments