اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںسپریم کورٹ ، قرض معافی سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت معاف کرائے ..

سپریم کورٹ ، قرض معافی سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت

, معاف کرائے گئے قرض کا 75فیصد واپس نہ کرنے والوں کی جائیداد قرق کرنے کا حکم

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اگست2018ء)سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرض معافی سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں معاف کرائے گئے قرض کا 75فیصد واپس نہ کرنے والوں کی جائیداد قرق کرنے کا حکم دے دیا۔جمعرات کے روز سپریم کورٹ میں قرض معافی سے متعلق ازخودنوٹس کیس کی سماعت ہوئی جس کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ گزشتہ سماعت پر قرض دہندگان کو 2آپشنز دیے گئے تھے۔

(خبر جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پہلے آپشن کے مطابق پرنسپل اماو?نٹ کا 75 فیصد جمع کرانا تھا، آپشن نمبر2کے مطابق قرض معاف کرانے والوں کی جائیداد قرق کرنے کا حکم دیا تھا۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ آج سماعت میں کئی فریقوں نے آپشن نمبر ایک کا انتخاب کیا ہے جس پر سپریم کورٹ نے باقی فریقوں کی جائیداد قرق کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ رپورٹ اور حالات دیکھنے کے بعد ہم نے سوچا معاملہ یہیں نمٹا دیا جائے،ہم نے پرنسپل اماو?نٹ پر25فیصد رعایت دی تھی۔چیف جسٹس کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیک نیتی ظاہر کرنے کے لیے رقوم جمع کرائیں، ماتحت عدالتوں میں معاملات لٹک نہ جائیں اس لیے فریقین کو آپشن ون
دیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں