اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںافغانستان میں حالیہ حملے پر بھارتی وزیراعظم کا پاکستان پر الزام بے ..

افغانستان میں حالیہ حملے پر بھارتی وزیراعظم کا پاکستان پر الزام بے بنیاد اور من گھڑت ، قطعی مسترد کیا جاتا ہے،پاکستان

, عمران خان بارے بھارتی میڈیا کا واویلا بلا جواز ہے، بھارتی میڈیا کو بڑا ہونے کی ضرورت ہے , بھارت مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشتگردی میں ملوث ہے، پاکستان کلبھوشن یادیو کا کیس بین الاقوامی عدالت میں لڑرہا ہے۔ پاک، افغان بارڈر پر باڑ لگانے کا مقصد دونوںممالک کے مابین انسانوں اور اشیاء کی نقل وحرکت کنٹرول کرنا ہے ، پاکستان کینیڈا اور سعودی عرب کی سفارتی کشیدگی کا بغور جائزہ لے رہا ہے،ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کی ہفتہ وار بریفنگ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اگست2018ء) ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ بھارتی میڈیا کو بڑا ہونے کی ضرورت ہے، عمران خان بارے بھارتی میڈیا کا واویلا بلا جواز ہے۔بھارت مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشتگردی میں ملوث ہے، پاکستان کلبھوشن یادیو کا کیس بین الاقوامی عدالت میں لڑرہا ہے۔ پاک، افغان بارڈر پر باڑ لگانے کا مقصد دونوںممالک کے مابین انسانوں اور اشیاء کی نقل وحرکت کنٹرول کرنا ہے، افغانستان میں حالیہ حملے پر بھارتی وزیراعظم کا پاکستان پر الزام بے بنیاد اور من گھڑت ہے جسے قطعی مسترد کیا جاتا ہے، پاکستان کینیڈا اور سعودی عرب کی سفارتی کشیدگی کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔

گزشتہ روز دفترخارجہ میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران انہوںنے کہا کہ پاکستان میں عام انتخابات کے بعد چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف بھارتی میڈیا کا واویلا کر نا بلاجواز ہے۔

(خبر جاری ہے)

بھارتی میڈیا کو ابھی بڑا ہونے کی ضرورت ہے۔سترسال گزرنے تک بھارتی میڈیا کو میچور ہوجانا چاہیے۔کلبھوشن یادیو کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ بھارت ، ہمسایہ ممالک میں ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں بھارتی جاسوس کلبھوشن کی موجودگی بھارتی وزیراعظم کے د عوؤں کی نفی ہے۔

انہوںنے بتایا کہ پاکستان کلبھوشن یادیو کا کیس عالمی عدالت انصاف میں لڑے گا۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت سے 5 مزید شہری شہید ہوچکے ہیں جب کہ حریت رہنماؤں کی جیل میں صحت سے متعلق خبروں پر تشویش ہے۔پاکستان بھارتی مداخلت سے آگاہ ہے ، اوراس مداخلت سے نمٹنے کیلئے تیار ہے۔

پاکستان اپنی سیکیورٹی ایجنسیز اور شہریوں کے خلاف اقدامات روکنے کیلئے متحرک ہے۔پاکستان میں بھارتی مداخلت کسی سے پوشید ہ نہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا دونوںممالک کے مابین برادارنہ تعلقات کی بنیاد پر ہے تاہم پاکستان سعودی عرب اورکینیڈا کے مابین سفارتی کشیدگی کو مسلسل مانیٹر کر رہا ہے۔

ایف ، اے ، ٹی ، ایف کے بار ے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے وفد سے وزارت خزانہ کے حکام کام کررہے ہیں۔ پاک امریکہ تعلقات کے حوالے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین باہمی بات چیت کاسلسلہ ابھی تک جاری ہے البتہ امریکہ سے فوجی کا تربیت کا پروگرام فی الحال معطل ہوچکا ہے۔

پاک ، افغان بارڈر پر باڑ لگانے کے معاملے ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ دسمبر 2019ء تک پاک افغان بارڈر باڑ کی تکمیل مشکل ہے، پاک افغان بارڈر کی طوالت اور مشکل ٹیرین اسکی وجہ ہو سکتی ہے،پاکستان افغانستان کے ساتھ بارڈر پر کنٹرول بہتر بنانے کے لیے باڑ لگا رہا ہے، انہوںنے بتایاکہ پاک افغان بارڈر پر تارلگانے کا عمل آئندہ دوسال تک مکمل ہوجائے گا، سرحد پر باڑ لگانے کا مقصد ددونوں ممالک کے مابین انسانوں اور اشیاء کی نقل وحرکت کو ریگولیٹ کرنا اور منشیات اور اسلحہ کی سمگلنگ کو روکنا ہے۔

افغان مہاجرین کی واپسی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ اس سلسلے میں افغان حکومت اعلی وفد پاکستان کا دورہ کرے گا۔پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی وسفارتی روابط کا حامی ہے ۔ دیامر اور بھاشا ڈیم کے تناظر میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان توانائی اور تجارتی روابط کا حامی ہے اور بھارت کی پاکستان میں مداخلت ڈھکی چھپی نہیں جبکہ پاکستان دیامر اور بھاشا ڈیم کی تعمیر میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کرے گا۔ ۔۔۔۔۔ شمیم محمود، نامہ نگار

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں