اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںوزیراعظم کے عہدے کے لیے شہباز شریف کی نامزدگی نامنظور پیپلز پارٹی ..

وزیراعظم کے عہدے کے لیے شہباز شریف کی نامزدگی نامنظور

پیپلز پارٹی نے وزیراعظم کے انتخاب میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کر لیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 17 اگست 2018ء): وزیر اعظم کے عہدے کے لیے شہباز شریف کی نامزدگی پر پیپلز پارٹی نے اعتراضات کا اظہار کیا تھا جس پر مسلم لیگ ن نے شہباز شریف کی جگہ کسی اور اُمیدوار کو نامزد کرنے سے صاف انکار کردیا تھا تاہم اب پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن کی جانب سے صاف انکار پر وزیر اعظم کے انتخاب میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے ۔ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کی زیرصدارت پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا مشاورتی اجلاس گذشتہ روز ہوا جس میں وزیراعظم کے اُمیدوار کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیے شہباز شریف کی نامزدگی پر اعتراض تھا اور اسی وجہ سے پیپلز پارٹی نے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کے عمل کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے۔

(خبر جاری ہے)

تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ آج نماز جمعہ کے بعد کیا جائے گا۔ مسلم لیگ ن کی جانب سے رابطے کی صورت میں پارٹی میں دوبارہ مشاورت متوقع ہے ۔اجلاس میں آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر بھی غور کیا گیا تاہم فیصلہ کیا گیا کہ پیپلزپارٹی اجلاس میں جائے گی لیکن ووٹنگ کے عمل میں شریک نہیں ہوگی ۔گذشتہ روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا تھا کہ پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن کو وزارتِ عظمی کے اُمیدوار پر تحفظات سے آگاہ کر دیا تھا، ن لیگ نے اُمیدوار نہ بدلا تو پیپلز پارٹی اپنا فیصلہ کرے گی۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ متحدہ اپوزیشن میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اتحاد پر دونوں سیاسی جماعتوں کے اندر بڑے گروپس نے اس اتحاد کی مخالفت شروع کر دی ہے۔ مسلم لیگ ن کے اندر ایک بڑے گروپ کا کہنا تھا کہ اسپیکر کے انتخاب میں پاکستان پیپلزپارٹی ہم سے ووٹ لے کر وزیر اعظم کے انتخاب میں ہاتھ کر جائےگی اور اگر ایسا ہوا تو ہماری سیاست یکسر ختم ہو جائے گی ۔

ہم نے اپنی انتخابی مہم میں جس کے خلاف نعرے لگائے ، جسے چور کہا ، اب اس کے ساتھ بیٹھنے سے ہماری پوزیشن مزید خراب ہو جائے گی ۔ مسلم لیگ ن کے سینئیر رہنماؤں نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر ہم ایسا کر کے پاکستان تحریک انصاف کو مضبوطی بخشتے اور اپنی سیاسی موت کو دعوت دے رہے ہیں ، تو کیا متحدہ اپوزیشن نوازشریف کے معاملے پر ہمارا ساتھ دے گی؟ پاکستان پیپلز پارٹی کے اندر یہ بھی منصوبہ بندی ہونے کی خبریں سامنے آئی تھیں کہ کسی طریقے سے پہلے ان سب سے اسپیکر کے لیے ووٹ لے لیں اور ساتھ میں ن لیگ کو وزیر اعظم کے لیے ووٹ دینے کی پیشکش کر کے ان کا اُمیدوار نامزد کروا کر اس کے بدلے میں اپوزیشن لیڈر اپنا بنانے کی کوشش کریں۔

کیونکہ اگر متحدہ اپوزیشن کی حکومت بن گئی تو پھر وزارتیں بھی لیں گے اور اگر متحدہ اپوزیشن ناکام ہوئی تو پھر پہلے جو ہمیں اسپیکر کے زیادہ ووٹ ملے ہوں گے اسی بنا پر ہم یہ مطالبہ کریں گے کہ اپوزیشن لیڈر ہمارا ہو۔کچھ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے باقاعدہ ایک سیاسی گیم کھیلی ہے تاکہ ایک تیرسے دو شکار کیے جا سکیں جس کے مطابق ایک اپوزیشن لیڈر کی سیٹ لینے اوردوسرا ن لیگ کو اسمبلی کے اندر نقصان پہنچایا جائے گا۔پیپلز پارٹی نے نواز شریف کے معاملے پر بھی مسلم لیگ ن کا کسی بھی فورم پر ساتھ دینے سے انکار کر رکھا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں