اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںعمران خان کا ایوان میں شہبازشریف سے مصافحہ نامزد وزیراعظم عمران خان ..

عمران خان کا ایوان میں شہبازشریف سے مصافحہ

نامزد وزیراعظم عمران خان نے اپنی نشست سے اٹھ کرشہبازشریف سے مصافحہ کیا،دونوں کے درمیان مختصرجملوں کا مکالمہ بھی ہوا،شہبازشریف کا بلاول بھٹو اور خورشید شاہ سے بھی مصافحہ

اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔17 اگست 2018ء): پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے صدر ن لیگ شہبازشریف سے خود مصافحہ کیا ، شہبازشریف جب ایوان میں آئے توعمران خان اور بلاول بھٹو اسمبلی میں اپنی اپنی نشستوں پربراجمان تھے ، تاہم شہبازشریف نے بلاول بھٹو اور خورشید شاہ نے مصافحہ کیا جبکہ شہبازشریف جب عمران خان کی نشست کے پاس پہنچے توچیئرمین پی ٹی آئی نے خود اٹھ کر شہبازشریف سے مصافحہ کیا۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن 2018ء کے بعد آج ملک کے 22ویں وزیراعظم کا انتخاب کیا جائے گا۔ پارلیمنٹ میں تحریک انصاف عددی لحاظ سے بڑی جماعت ہے، پی ٹی آئی نے عمران خان کووزارت عظمیٰ کا امیدوار نامزد کررکھا ہے۔ اسی طرح دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ ن ہے ، ن لیگ نے وزارت عظمیٰ کیلئے شہبازشریف کو نامزد کررکھا ہے۔

(خبر جاری ہے)

خفیہ رائے شماری کے ذریعے تحریک انصاف نے اپنا اسپیکر قومی اسمبلی اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی منتخب کروا لیا ہے۔

آج قومی اسمبلی میں پاکستان کے 22ویں وزیراعظم کیلئے انتخاب ہوگا۔تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں ان کے پاس 180سے زائد نمبرز موجود ہیں۔جبکہ اپوزیشن اتحاد میں وزیراعظم کے امیدوار کی نامزدگی کے معاملے پر دراڑ پڑ گئی ہے۔ پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے شہبازشریف کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔

جس پر مسلم لیگ ن کواب پیپلزپارٹی کے ووٹ نہیں ملیں گے۔تاہم قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تواوپوزیشن کے نامزد وزیراعظم شہبازشریف جب ایوان میں آئے اور اپنی نشست پر بیٹھنے کیلئے قائد ایوان کی نشست کے پاس پہنچے تونامزد وزیراعظم عمران خان نے ان سے اپنی نشست سے اٹھ آگے بڑھ کرمصافحہ کیا۔اس موقع پرعمران خان اور شہبازشریف کے درمیان چند جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

اس موقع پرشہبازشریف کے ہمراہ خواجہ آصف اور دیگر پارٹی رہنماء بھی تھے۔شہباز شریف نے بلاول بھٹو اور خورشید شاہ سے بھی مصافحہ کیا۔ن لیگی ارکان نے احتجاج کے باعث بازوؤں پرسیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔اس سے قبل ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا۔ جس میں وزیراعظم کے انتخاب کے فوری بعد احتجاج کرنے اور ن لیگ کے نامزد امیدوار کو ووٹوں سے متعلق حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پرارکان اسمبلی نے صدر ن لیگ شہبازشریف سے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم کے انتخاب پراحتجاج کیا جائے۔آج احتجاج نہ کیا تودھاندلی کا بیانیہ کمزور ہوجائے گا۔احتجاج کے ذریعے نوازشریف کے بیانیئے کو تقویت دی جاسکتی ہے۔شہبازشریف نے وزیراعظم کے انتخاب کے فوری بعد احتجاج پررضامندی ظاہر کردی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے انتخاب کے موقع پراحتجاجی مظاہرے کا فیصلہ ارکان اسمبلی کے مطالبے پرکیا گیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں